وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے خود یا بھارت کےساتھ مل کر پاکستان کےخلاف کوئی جارحیت کی تو اس کو اسی شدت کے ساتھ جواب دیا جائےگا۔ پاکستان اپنے دفاع کا حق استعمال کرےگا۔
خواجہ آصف نے کہا انھیں اس بات کا علم نہیں کہ حالیہ جنگ کےدوران اسرائیل ایران پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے حملہ کرنے والا تھا لیکن اسرائیل سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت، اسرائیل اور افغانستان میں پاکستان دشمنی یکساں عنصر ہے، فلسطینیوں نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا صلہ انہیں ضرور ملے گا، دیگرممالک میں موجود یہودی اسرائیلی اقدامات کی مذمت کررہے ہیں۔
وزیردفاع نے کہا کہ اسرائیل امریکا ایران معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی ہرممکن کوشش کررہاہے، معاہدےکی کامیابی کی صورت میں نیتن یاہو کا سیاسی کیریئر ختم ہوجائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئےبھارت دہشتگردوں کواسلحہ فراہم کررہاہے، دہشتگردی کیخلاف ہمیں کوئی نہ کوئی حتمی فیصلہ کرنا پڑے گا، دہشتگردی کے خاتمے کے ساتھ ہمیں معاشی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کرنی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ عناصرچاہتے ہیں کہ آزادکشمیرمیں الیکشن نہ ہوں مگر الیکشن لازمی ہونے چاہئیں، پاکستانی فوج آزادکشمیر کی حفاظت کررہی ہے، ایکشن کمیٹی کے سیاستدانوں نے کیا قربانیاں دی ہیں؟ مقبوضہ کشمیر کےعوام ان سےزیادہ قربانیاں دے رہے ہیں، اصل قربانیاں پاکستانیوں اورگلگت بلتستان والوں نے دی ہیں۔
وزیردفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے، اسرائیل ڈبلیو ایم ڈی استعمال کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، اسرائیل نے پاکستان کیخلاف جارحیت کی تو اسے بھرپور جواب دیں گے، مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی کیمپس موجود ہیں جہاں ٹریننگ ہوتی ہے۔ بھارت اور اسرائیل اکٹھے ہوکر آجائیں، انہیں منہ توڑ جواب ملے گا۔














