کوئٹہ: انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہرنے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چائیے کہ صوبے میں امن و استحکام اور پارئیدار امن کے قیام کے لیے اب تک 1195پولیسآفیسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے ان گمنام ہیروز نے اپنا خون دیگر ہمیں جینے کا حق دیا موت تو برحق ہے۔ مگر ہمارا عزم ہے کہ بیگناہ لوگوں کے دشمنوں اور ان کیعزائم کو بھی خاک ملاتے رہیں گے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امن و استحکام خود بخود حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے ان شہیدوں کی قربانی ہوتی ہے جو ہمیشہ اپنی جان ہتھیلی پے رکھ کر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہداء پولیس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں مہمان خصوصی صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء للہ لانگو، آئی جی ایف سی (نارتھ) عاطف مجتبی، جی او سی 41 ڈیو میجر جنرل ممتاز علی، اسپیکر صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی،صوبائی وزیرخزانہ میر شعیب نوشیروانی،صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی میر ظہور احمد بلیدی،صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید دورانی، صوبائی وزیر ہیلتھ بخت محمد کاکڑ، ممبر صوبائی اسمبلی میر علی مدد جتک، ایڈیشنل آئی جی پولیس بلوچستان جاوید علی مہر، ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز شہزاد اکبر، ایڈیشنل آئی جی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز حسن اسد علوی،ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ طاہر علا الدین، اے آئی جیز سمیت شہدائکے لواحقین سمیت سول اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔آئی جی پولیس بلوچستا ن محمد طاہر نے کہا کہ آج کے دن شہادت کا عظیم رتبہ پانے والے بلوچستان پولیس کے بہادر شہداء کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں شہداء پولیس ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرسکتیں۔ جن کی جرات اور بہادری کی داستانیں ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں۔
بلوچستان پولیس اپنے فرائض کے حوالے سے ہمیشہ سے پرعزم ہے۔ روز بروز ہمارا عزم مزید پختہ ہوتا جارہا ہے اور ہم دہشت گردی کو جڑسے ا کھاڑ نے اور امن کے قیام کے لئے ہمہ وقت بر سرِ پیکار ہیں۔ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردوں کا صفایا کرکے ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کٹھن حالات میں کام کر رہی ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان پولیس کے کئی بہادر افسران اور جوان شہید ہوئے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاست کی جنگ ہے۔ اور اس میں ہم سب ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ہم سب مل کر لڑ رہے ہیں ہم اپنے شہداء کے مقدس لہو کا بدلہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سب دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہدا کو نہ بھلے ہیں اور نہ ہی کبھی اپنے شہداء کی قربانیوں کو نہیں بھولے گے۔ بلوچستان پولیس اپنے قیام سے آج تک امن کی علمبردار رہی ہے ہمارے جوان ہمہ وقت جرائم اور خصوصا ً دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیا ر رہتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری صفوں میں حامد شکیل،فیاض سنبل،ساجد مہمند اور مبارک شاہ جیسے جری اور بہادر اہلکاروں سمیت کئی شہید ہونے والے جوانوں نے اپنی جان کانذرانہ دے کر اس ملک کا پرچم اور ہمارا سر فخر سے بلند کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں ان شہداء کے خاندانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے، شوہر، بھائی اور باپ کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا مگر صبر اور فخر کے ساتھ سربلند رکھا ان کی عزت، فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور روزگار کے تمام تر معاملات ہماری اولین ترجیح ہیں ہم ان خاندانوں کے ساتھ نہ صرف ہمدردی بلکہ عملی تعاون کے پختہ عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں پر فخر ہے کہ جنہوں نے ہمارے سکون کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے ہم نے تما م فرنٹ لائنز پر دہشت گردوں کا بہادری اور جرات مندی سے مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ شہداء کے خاندانوں کی کفالت کو یقینی بنائیں گے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشت گردی کے ناسور کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سفت غیور نے کمانڈنٹ کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ وہ خودکش حملے میں شہید ہوئے اور ایک بہادر، فرض شناس اور پیشہ ور پولیس افسر تھے، جن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مانگی کے شہداء نے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں اور شہداء کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے ویلفیئر فنڈ اور شہداء پیکیج کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ شہادت ہماری خواہش ہے، پاکستان ہماری پہچان ہے اور سبز ہلالی پرچم ہماری شان ہے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے اب تک (1195) پولیس آفسران و جوانوں نے جامِ شہا دت نوش کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم ان بہادر آفیسروں اور جوانوں کی قربانیوں کا اعتراف کر رہے ہیں ان قربانیوں کا ہی ثمر ہے کہ بلوچستان کیہر شہری خود کو پہلے سے زیا دہ محفوظ سمجھتا ہے۔ بلوچستان پولیس نے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ شہدا ئکے خاندانوں کی ہر سطح پر ممکن معاونت ہوسکے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے، آئی جی بلوچستان پولیس
43














