اگر میں نہیں ہوتا تو اسرائیل کا صفایا ہوچکا ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ

1

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو اسرائیل کا صفایا ہو چکا ہوتا۔

ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ تعلق اچھا ہے، لیکن انہیں تھوڑا قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملوں سے روک لیں گے، اسرائیل وہی کرتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران سے معاہدہ مایوسی میں نہیں کیا، بلکہ ایران نے ایسا کیا ہے، ایران مکمل طورپر ختم ہوچکا ہے، ہم 60 دن کا وقت پورا کریں گے، ایران کو کوئی رقم ،ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ نے ایران کو کمزور کر دیا ہے، ایران کے پاس نہ فضائیہ ہے، نہ بحریہ، نہ طیارہ شکن آلات، نہ ریڈار، اور نہ ہی عملی طور پر کوئی اور چیز باقی ہے، اس کے باوجود ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ ایران چار ماہ قبل کے مقابلے میں اب بہتر حالت میں ہے، ڈیموکریٹس کتنے بیوقوف ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آج سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات منسوخ ہو گئے ہیں۔

سوئس وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ مذاکرات اب نہیں ہوں گے۔

سوئس وزارتِ خارجہ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سوئٹزرلینڈ روانگی مؤخر ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

سوئس وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے بدستور تیار ہے، برگن اسٹاک میں متعلقہ تیاریوں کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق سوئس وزارت خارجہ نے مذاکرات کی نئی تاریخ سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس وقت دو مخالف دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اسرائیل کے سخت گیر حلقے حزب اللّٰہ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی چاہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا اور ایران کے ساتھ سفارتی عمل کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔

نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل اپنے فوجیوں یا سرزمین پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا اور حزب اللّٰہ کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی، لیکن ساتھ ہی ان کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فی الحال جنگ کو مزید وسیع کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں