وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک سب بے اختیار ہیں، شہدا کے لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے، دھرنے کو مزید وسیع دی جائیگی، ہمیں اتنا کمزور نہ سمجھا جائے،محمود خان اچکزئی

14

کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک کے مقام پر جاری زیارت دہشت گردانہ واقعہ کے خلاف عوامی احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام پشتونوں کا جرگہ ہونا چاہیے، پشتونوں کی موجودہ صورتحال پر خیبر سے تیراہ وزیرستان اور جنوبی پشتونخوا تک تمام پشتونوں کا جرگہ ضروری ہے، قوموں پر جب بُرا وقت آتا ہے تو وہ اپنے اندرونی اختلافات پس پشت ڈال کر رکھ دیتے ہیں، زیارت پولیس شہدا کے قاتل وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے اُنہیں واٹر ٹینک پر بھیجا جنہوں نے اسلحہ نہیں پہنچایا۔ اسلام اباد میں یہ مطالبہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کیا کہ ان لوگوں کو استعفیٰ دینا ہوگا، وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک سب بے اختیار ہیں، شہدا کے لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے،، دھرنے کو مزید وسیع دی جائیگی، ہمیں اتنا کمزور نہ سمجھا جائے پشتون 100سال بعد بھ اپنا بدلہ نہیں بھولتے، قرآن کریم قصاص کا حکم دیتا ہے ہم بندوق نہیں اٹھاینگے لیکن اس ظلم کے خلاف اٹھنا ہوگا،اپنی صفیں درست کرنا ہوگی۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ یہ بڑی دُکھ کی بات ہے جب کسی قوم پر ایسے حالات آجائے تو جذبات، بُرا بلا کہنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ عقل شریک کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔جن کے ہاتھوں ہمارے یہ بچے شہید ہوئے ہیں ہمیں ان کو معلوم کرنا ہوگا
کیونکہ اسلام اور پشتون اعلیٰ روایات دونوں میں اس قسم کی المناک اور ناحق موت کی اجازت نہیں اگر کوئی زبردستی کسی کا خون بہاتا ہے اور زور کرتا ہے تو ایسے لوگوں کو پشتون روایات میں مار دیاجاتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ ہے کہ ”گویا ایک بے گناہ انسان کی موت تمام انسایت کی موت اور کسی ایک بے گناہ انسان کو بچانا تمام انسایت کو بچانے کے مترادف ہے“۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم اپنی بساط کے مطابق گزشتہ تین سالوں سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ پشتون وطن کودنیا کے مست سانڈوں نے اپنے جنگ کا مرکز بنا نا ہے اور ہمارے وطن اور اس قوم کے وسائل معدنیات پر ان کی بُری نظریں ہیں اور وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وطن میں قدرت کی بے شمار نعمتیں ہیں وہ تمام نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۃ رحمن میں بیان کی ہیں اللہ تعالیٰ نے پشتون افغان کو انتہائی غنی وطن سے نوازا ہے جہاں دریاء، پانی، نہریں، جنگلات، قیمتی معدنیات، کوئلہ سب کچھ موجود ہیں۔ آج جو حالات ہیں ہم اس کی نشاندہی کرتے چلے آرہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں شدید گرمی میں وزیرستان کے لوگوں کو مردان میں کیمپس بناکر آباد کیا گیا اور ان کے وطن پر قبضہ کیاگیا اور انہیں تمام ملک میں بعد میں آئی ڈی پیز بنا دیا گیا۔ پشتون سیال قوم ہے ہمیں کسی کی خیرات نہیں چاہیے۔ ہم یہ ملک توڑنا نہیں چاہتے، یہ ایک فیڈریشن ہے جس میں پشتون، بلوچ، سندھی،سرائیکی اور پنجابی اقوام اپنی اپنی زمینوں پر تاریخی طور پرآباد ہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کے قیام کے بعد سے لیکر آج تک ملک میں آئین کو نہیں مانا گیا۔
اس حد تک کہ یہ ملک دولخت ہوا بنگال بنا اس کے بعد آج تک کسی سے نہیں پوچھا گیا کہ یہ ملک کیوں ٹوٹا۔ باقی ماندہ ملک میں اکابرین نے بیٹھ کر ملک کو جمہوری ٹریک پر ڈالنے کے لیے آئین تشکیل دیا اگر چہ اس میں پشتونوں کا اپنا قومی صوبہ نہ تھا لیکن اس کے باوجود ایک متفقہ آئین بنایا گیا تاکہ ملک میں جمہور کی حکمرانی ہو، پارلیمنٹ خود مختار ہو، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن قائم ہو، ہر قوم کے وسائل پر ان کا واک واختیا ر ہو لیکن اس آئین کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان اس ملک کا پاپولر لیڈر ہے، 8فروری کے انتخابات میں جس انداز میں دہشت گردی کی گئی عوام کے مینڈیٹ کو چھینا گیا، عدالتوں کو توڑ کر تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھینا گیا اور پھر اسمبلیوں کی بولیاں لگائی گئی جس میں کوئی غریب سیاسی کارکن نہیں آسکتا تھا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے اور یہ بھی دہشت گردی کی علامت ہے کہ آپ نے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا اور بولیاں لگاکر لوگوں کو اسمبلیوں تک پہنچاکر عوام پر مسلط کیا۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ ہماری سُنو اور جو نہیں سُنتا اُسے گولیاں مار دی جاتی ہے، عمران خان کے کارکن عمران خان کی رہائی، جمہورکی حکمرانی کے لیے نکلے تھے اور احتجاج کیا آپ نے انہیں گولیاں ماردیں۔ تحریک لبیک والوں کو آپ نے گولیاں مار دیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ زیارت کے علاقہ مانگی میں جس واٹر ٹینک کی جگہ پر پولیس اہلکاروں کو لاکر اکٹھا کیا گیا اور انہیں ایک یا دو دو میگزین دیئے گئے انتہائی کم اسلحہ فراہم کیاگیا یہ کام جس نے بھی کیا وہی دراصل ان شہدا کے قاتل ہیں۔اگر وہ کوئی ڈی سی ہو، کمشنر ہو یا سیکرٹری داخلہ ہو۔ ان اہلکاروں کو یہاں پر تعینات کرنے والے ہی اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں اور وہ بھی ذمہ دار ہیں جنہیں اہلکاروں نے بروقت اطلاع دی اور امداد مزید اسلحہ، گولیوں کی فراہمی کی درخواست کی۔ تحقیقات کی جائیں اور انہیں بے نقاب کیا جائے کیونکہ یہ بھی اتنے ہی ذمہ دار اور قاتل ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں