چیف سیکرٹری بلوچستان سے ڈاکٹر قیصر بنگالی کی ملاقات، قدرتی وسائل اور سرمایہ کاری کے ذریعے بلوچستان کی پائیدار ترقی ممکن ہے، ڈاکٹر قیصر بنگالی

12

کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ملاقات کی، ملاقات میں صوبے میں غربت میں کمی، روزگار کے فروغ، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور ریجنل گروتھ سینٹرز کے قیام و استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر تمام انتظامی سیکرٹریز بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود، معاشی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے جاری اقدامات پر گفتگو ہوئی۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو روزگار کی فراہمی، عوام کو بنیادی ضروریات تک رسائی، حکومت کی جانب سے ضلعی ترقیاتی منصوبے، ضلعی لائیولی ہوڈ پروگرام، اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف صرف ترقیاتی منصوبے شروع کرنا نہیں بلکہ ان کے ثمرات عام شہری تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں غربت کے خاتمے کے لیے مربوط پالیسی، مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کا فروغ، ہنرمندی کی تربیت، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباریوں کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔ چیف سیکرٹری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں ریجنل گروتھ سینٹرز کے قیام سے مقامی معیشت کو تقویت ملے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اس موقع پر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بلوچستان کی معاشی صورتحال، ترقیاتی امکانات اور سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بڑے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے تاکہ پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، ساحلی پٹی، معدنی ذخائر اور زرعی امکانات کو مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کے عمل میں لایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر قیصر بنگالی نے مزید کہا کہ اگر صوبے میں انفراسٹرکچر، توانائی، زراعت، لائیوسٹاک، معدنیات، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں میں بڑے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے تو نہ صرف معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان کو مشورہ دیا کہ مقامی سطح پر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت کے ذریعے ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جو طویل المدتی سماجی و معاشی فائدہ فراہم کریں۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ غربت میں کمی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقائی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے سرکاری اداروں، ماہرینِ معیشت، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ دونوں شخصیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کو ترقی کے ثمرات جلد از جلد پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں