کوئٹہ:سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ پشتون وطن میں پیش آنے والے خون ریزی کے واقعات مائنز اینڈ منرلز اور ڈی ایچ اے ایکٹ کے تحت قبضہ کیلئے ہیں، کوئٹہ اور اس کے اطراف باہر سے لوگوں کو لاکرآباد اور منتخب کرایا جائیگا، چور دروازے سے آنیوالی حکومت کے استعفیٰ سے کچھ نہیں ہوگا اپوزیشن بھی استعفیٰ دے اورجو لوگ ان کی سرپرستی کرکے لائے ہیں انہیں بھی پتہ چلے گا جب بلوچستان کے لوگ اور وہ آمنے سامنے ہوں گے اب تک سہولت کاروں کو سامنے رکھ کر سازشیں کررہے ہیں، قومی بحرانوں اور صوبے کے امور پر بات چیت کیلئے جرگہ طلب کرنے کیلئے تیار ہیں،سیاسی شعوری اور وطن سے محبت کرنے والے نوجوان، شعوری سیاسی کارکن قومی حقوق، عزت،ناموس،وقار کے دفاع کیلئے ایک نئی جدوجہد کا آغاز کریں۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز سمنگلی روڈ کوئلہ پھاٹک پرجاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچستان آج سے نہیں سات دہائیوں سے تنازعات، بحرانوں، واقعات اور مسائل سے دوچار ہے آج کا دھرنا بھی ان مظالم کی لا متنائی زنجیر کی کڑی ہے آج جب قومیں آسمان پر پہنچی ہیں، ہم ٹکڑوں میں تقسیم اپنی نعشوں کو کنٹینر میں رکھ کر انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں، انہوں نے دھرنے کے شرکائسے سوال کیا کہ آیا ہم اس حکومت سے مطالبہ کریں جو نجی ہوٹل کی پیداوار ہے یا پی ایس ڈی پی کی لوٹ مار میں شریک سیاسی جماعتوں سے کریں؟انہوں نے کہاکہ وہ 2013ئسے ایک بات بار بار کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والا ڈی ایچ اے ایکٹ سرزمین کے لوگوں کو لے ڈوبے گا اور ہمارے سروں پر خون ریزی آنے والی ہے مگر اس پر کسی نے توجہ نہیں دی آج اس ایکٹ کے تحت کوئٹہ اور اس کے اطراف میں قبائل کو ان کی سرزمین سے دستبرار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
تاکہ باہر سے لاکر لوگوں کویہاں آباد کیا جائے اور باہرکے لوگوں کو منتخب کراکے اراکین اسمبلی گورنر اور وزیراعلیٰ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ وطن ہماری ماں، سرپرست اور پناہ گاہ ہے مگر نام نہاد حکومت اور اپوزیشن نے اس سرزمین کا انچ انچ فروخت کرکے بلوچستان اسمبلی سے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کرایا اس ایکٹ کیخلاف میں اورمیرے ساتھی جدوجہد کررہے ہیں اور کچھ سیاسی جماعتوں نے صرف ٹوٹل پورا کرکے عدالت سے اپنا کیس واپس لیا اور کچھ مسلسل خاموش ہیں، مائنز اینڈ منرلز اور ڈی ایچ اے ایکٹ کے تحت قومی وطن کو ہمارے لیے تنگ کیا جارہاہے ہم اپنے ہی وطن میں آج مارے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں بلوچ اور پشتون کوئی تفرقہ نہیں،بلوچ اور پشتون ایک وطن میں آباد ہیں، تفرقہ پیدا کرنے والوں کی مذمت کرتاہوں۔انہوں نے سیاسی شعوری اور وطن سے محبت کرنے والے نوجوانوں اور شعوری سیاسی کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ حقوق، عزت ناموس وقار کے دفاع کیلئے ایک نئی جدوجہد کا آغاز کریں،انہوں نے اعلان کیا کہ نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور میں قومی بحرانوں اور بلوچستان کے امور پر بات چیت کیلئے ایک بہت بڑا جرگہ طلب کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چور دروازے سے آنیوالی حکومت کے استعفیٰ سے کچھ نہیں ہوگا اپوزیشن بھی استعفیٰ دے۔
پشتون وطن میں پیش آنے والے خون ریزی کے واقعات مائنز اینڈ منرلز اور ڈی ایچ اے ایکٹ کے تحت قبضہ کیلئے ہیں، لشکری رئیسانی
28













