کوئٹہ: آل پارٹیز کے رہنماؤں جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر وسینیٹر مولانا عبدالواسع، سربراہ نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر اچکزئی نے بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں ایک مشترکہ اتحاد بنانے کی جانب بڑھ رہی ہے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان اسمبلی کو تحلیل کرکے صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں اور عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے جس کو پارلیمان میں بھیجے اسے کامیاب قرار دیا جائے بلوچستان کے حالات کی بہتری کیلئے ستمبر کے مہینے میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس بلارہے ہیں جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو شرکت دعوت دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں آل پارٹیز کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عیسیٰ خان روشان، احمد جان، میر اختر حسین لانگو، قادر نائل، زاہد اختر بلوچ بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ سردار کمال خان بنگلزئی، میر کبیر احمد محمد شہی، داؤد خان پیر علی زئی، مابت کاکا سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ گزشتہ روز آل پارٹیز کا تیسرا اجلاس اصغر خان اچکزئی کی صدارت میں ہواجس میں اہم فیصلے کئے گئے حکومت زیارت سانحہ کے واقعہ سے متعلق معاہدے پر فی الفور عمل کرے اور صوبے کے حالات کی بہتری کیلئے مذاکرات اختیار کئے جائیں اور ہم آل پارٹیز کانفرنس منعقد کریں گے یہ آل پارٹیز کانفرنس ستمبر میں منعقد ہوگی جس کی سربراہی مولانا فضل الرحمن کریں گے انہوں نے بتایا کہ 5ستمبر کو نیشنل پارٹی کے دفتر میں تیسرا اجلاس منعقد ہوگا
انہوں نے بتایا کہ آل پارٹیز کے اجلاس میں صوبے کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیاآل پارٹیز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے سیاسی جماعتوں کو دیوار سے نہ لگایا جائے کیوکہ انہیں پارلیمان سے باہر نکال کر زور زبردستی سے حالات کو بہتر بنانے کا خمیازہ دیکھ لیا ہے جس کی وجہ سے حالات اس نہج پر جا پہنچے ہیں ہم نے پہلے ہی کہا تھا فارم 47 والا سسٹم نہیں چلے گاآج حکومت کا بااختیار وزیر داخلہ خود مان رہا ہے کہ نظام نہیں چل رہاسیاسی جماعتوں کو باہر نکال کر نئے لوگوں کو آپ لے کر آئے ہیں جس کی وجہ سے آج ریاست اور بلوچستان کو تباہی دہانے پر پہنچادیا ہے اس لئے ریاست بلوچستان اور ملک کو تباہی سے بچانے کیلئے یہی سیاسی جماعتیں میدان عمل میں موجود ہیں اب بھی وقت ہے اصلاحات لائی جائیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے زور زبردستی مسائل کا حل نہیں بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی طور پر حل کیاجائے یہی صوبے اور ملک کے مفاد میں ہے۔ زور زبردستی مسئلے کو حل کرنے والوں نے اس کا خمیازہ بھی دیکھ لیا ہے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈر کو بلوچستان کے سلگتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے دورہ اسلام آباد کے دوران 17 نکاتی ایجنڈا تمام اسٹیک ہولڈرز کے سامنے رکھا ہے ہم صوبے اور ملک کے حالات کو خراب کرنے میں غیر ملکی ہاتھ کو رد نہیں کرتے مگر یہاں کے لوگوں میں بد اعتمادی کیوں پیدا کی جارہی ہے بلوچستان کی تمام شاہراہیں سفر کیلئے غیر محفوظ ہیں اس کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں لوگوں کا روزگار اور آمدو رفت کے ذرائع بند ہوگئے ہیں
کوئٹہ سے کراچی، کوئٹہ سے دیگر صوبوں کو جانے والی شاہراہیں محفوظ سفر کے قابل نہیں رہی جو حکومت اور اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ بلوچستان میں اسمبلیاں ختم کرکے صاف شفاف انتخابات کرائے جائیں عوام کو اپنے حق رائے دہی استعمال کرنے کا حق دیا جائے وہ جس کو ووٹ دیکر پارلیمان میں بھیجے اسے حکومت کرنے دی جائے انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ کی جانب سے آل پارٹیز کی بجائے پشتون جرگہ بلائے جانے پر افسوس ہے آل پارٹیز کی خواہش تھی کہ محمود خان اچکزئی ملک کے اپوزیشن لیڈر ہیں ان کی قیادت میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جاتی جس میں محمود خان اچکزئی کو بطور اپوزیشن لیڈر تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہئے تھا لیکن اس صورتحال میں معاملات کو سیاسی پٹڑی سے نہیں اترنا چاہئے پہلے لوگ الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے لوگوں کو آپس میں دست وگریبان ہونے سے بچانا ہے اور متحد ہوکر معاملات کو بہتر بناتے ہوئے پر امن بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانا ہے کیونکہ بلوچستان بلوچ پشتون تنازعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ آل پارٹیز کی جانب سے سیاسی اتحاد بنارہے ہیں یہ اتحاد آنے والے الیکشن میں متحد ہوکر حصہ لینے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیرا علیٰ بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ انشااللہ بلوچستان کی مشکلات کے حل کیلئے ملکر جدوجہد کریں گے مولانا صاحب کی سربراہی میں آگے بڑھیں گے تاکہ بلوچستان کو پرامن بنایا جاسکے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہم سب کا ہے ہم کسی صورت بھی زور زبردستی 1973ء کے این ایف سی اور اٹھارویں ترمیم کو ڈنڈے کے ذریعے واپس نہیں ہونے دیں گے ہم لوگوں کے ساتھ ہیں اور اپنے لوگوں کی نمائندگی کریں گے اور ان کے حقوق کے حصول کو یقینی بنائیں گے۔ اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ خضدار میں اسما جتک کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے رشتہ سے انکار پر لڑکی کے منگیتر، ماموں اور اب والد کو قتل کیا گیاحکومت ایک لڑکی کو گھر میں تحفظ نہیں دے سکتی تو حالات کیسے ٹھیک کرے گی صوبے میں بلوچ پشتون ہزارہ، سیٹلر و دیگر اقوام کے اتحاد کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز صوبے میں تمام جماعتوں پر مشتمل سیاسی اتحاد بنانے جارہی ہے۔ حکومت بلوچستان تو زرغون روڈ اور ریڈ زون کی حفاظت کرنے سے بھی قاصر نظر آتی ہے ہر طرف کنٹینر اور ٹرک کھڑے ہیں سڑکیں غیر محفوظ ہیں۔ جس طرح زیارت دھرنے میں آل پارٹیز نے اپنی جد وجہد سے مسئلے کو اٹھایا اور یکجہتی سے اسے منوایا ایسے ہی باقی مسائل میں یکجہتی کا کردار ادا کریں گے۔
بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، طاقت نہیں بلکہ مذاکرات ہی حل ہیں، آل پارٹیز
34














