اسلحے کی قلت پر ٹرمپ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر برہم ہو گئے، واشنگٹن پوسٹ کا بڑا دعویٰ

42

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس بڑے پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر موجود ہیں۔

ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر اسلحہ تیار بھی کیا جا رہا ہے اور ضرورت کے مطابق منگوایا بھی جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دفاعی کمپنیاں ریکارڈ تعداد میں پلانٹس اور فیکٹریاں تعمیر کر رہی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غداری پر مبنی بیانات لیک کرنے والوں کو تلاش کر کے طویل سزائیں دیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی میڈیا واشنگٹن پوسٹ نے کہا تھا کہ ایران جنگ کے دوران اسلحے کی قلت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے وضاحت طلب کی، تاہم امریکی میڈیا کے اس دعوے کی حکام نے تردید کی ہے۔

امریکی میڈیا واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر نے وزیر دفاع سے اسلحے کے ذخائر میں کمی پر وضاحت طلب کی، جس کے باعث ایران کے خلاف فوجی آپشنز محدود ہو گئے تھے۔

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ریاست میری لینڈ کے مقام کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع ہیگستھ سے اسلحے کے ذخائر میں شدید کمی پر باز پُرس کی، جس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے ممکنہ آپشنز کو محدود کر دیا تھا۔
واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے امریکی فوج کے اسلحے اور میزائلوں کے ذخائر میں کمی پر سخت سوالات کیے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر حیران تھے کہ اہم ہتھیاروں، خصوصاً طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت اب بھی برقرار ہے حالانکہ انہیں پہلے بتایا گیا تھا کہ یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اجلاس میں اس معاملے پر وضاحت طلب کی اور جاننا چاہا کہ اسلحے کی قلت کیوں ختم نہیں ہو سکی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی صورتحال نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملے نہ کرنے کے فیصلے پر بھی اثر ڈالا، کیونکہ محدود اسلحہ ذخائر امریکی فوجی آپشنز کو متاثر کر رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں