بلوچستان اسمبلی،اسماء جتک کے والد کے قتل پر اراکین کا احتجاج،واک آؤٹ

25

کوئٹہ:بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسماء جتک نامی خاتون کے والد کے قتل پر اراکین اسمبلی کا شدید احتجاج، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک سمیت دیگر کا واک آؤٹ،اسپیکر نے قاتلوں کی گرفتار ی کے لیے دو دن کی مہلت دے دی۔ بدھ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خضدار میں اسماجتک کے والد کے قتل کی تحقیقات کرائی جائیں،انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے کھبی لاشوں کی نہیں حق کی سیاست کی ہے خضدار میں اسماجتک کے والدکے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، اسلام آباد میں وفاقی وزرا سے ملاقاتوں میں ان کارویہ توہین آمیز تھا،میں تو کہتا ہوں کہ 65 کے ایوان کے ممبران کو وفاقی وزرا سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ خضدار میں اسماجتک کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے اسماجتک نے خطرات کے پیش نظر اپنا ویڈیوبیان جاری کیا پہلے اس کے منگیتر اور اب اسے والد کو مارا گیا ہے دو دن گزر جانے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی جارہی ہے اگران کو انصاف نہیں ملا تو اس کے بھائی کوئی غلط قدم اٹھاسکتے ہیں میں اس واقعہ کے خلاف علامتی واک آؤٹ کرنا چاہتا ہوں۔اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ اگر اسما جتک کے والد کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے ہیں تو وزیر اعلی اور وزیر داخلہ اس قتل کے ذمہ دار ہیں،خضدار کے واقعہ پر اپوزیشن لیڈر یونس زہری اور صوبائی وزیر علی مدد جتک نے ایوان سے واک آوٹ کیا۔ پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ خضدار میں اسماجتک کا واقعہ بڑا واقعہ ہے سب کو قاتل کا نام معلوم ہے مگر نام نہیں لیتے ہیں اس واقعہ کے ذمہ دار نواب ثنا اللہ زہری ہیں، میں اسماجتک کے والد کا قاتل نواب ثنا اللہ زہری کو سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آپ ڈی آئی جی اور ایس پی کو کیوں بلا رہے ہیں
ان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالیں جس پر اسپیکر نے کہا کہ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں موجودہ حالات کے ذمہ دار نواب اور سردار ہیں، میں تو کہتا ہوں اس واقعہ پر وزیر داخلہ ضیالانگو کو استعفی دینا چاہیے۔اس موقع پر مولاناہدایت الرحمن اسماجتک کاواقعہ بیان کرتے ہوئے آب دیدہ ہوگئے ہم اسماجتک بہن سے شرم مندہ ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اگرقاتل گرفتار نہیں ہوتا، آئی جی پولیس اور ڈی آئی جی ملازمت سے فارغ نہیں ہوتے تو ہم سب کو اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دینا چاہیے۔صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ نواب ثنا اللہ زہری اور ان کا بیٹا عمرے کے لئے گئے ان کا نام لینا مناسب نہیں۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ خضدار میں اسماجتک کے واقعہ پر ہم اور پورا بلوچستان ان کے ساتھ ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی کل پوری رات اس خاندان کے ساتھ رابطے میں رہے، قاتل کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں،پولیس کو ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ دو دن میں ملزم کو گرفتار کریں قاتل جتنا بھی طاقت ور ہوگا اس کو گرفتار کیا جائے گا۔اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دی کہ ا سما جتک کے معاملے پر اسپیکر نے آئی جی پولیس، ڈی آئی جی خضدار، ایس پی خضدار کو چیمبر میں طلب کیا جائے تاہم بعدازاں انہوں نے رولنگ دی کہ ہم آئی جی اور ڈی آئی جی کو نہیں بلاتے بلکہ دو دن کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ قاتل کو گرفتار کریں۔ اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے کہا کہ زیارت میں مانگی کاواقعہ بہت درد ناک تھا، ہمارے پولیس کے جوانوں نے جوان مردی سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، ہمیں ان واقعات پر سیاست کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا، بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 28 اگست تک ملتوی کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں