کوئٹہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما میر شفیق الرحمان مینگل نے کہاہے کہ میں اور قربانی دینے والے ساتھی نظریہ پاکستان کے علم بردار رہے ہیں اس لیے ہمیں نشانہ بنایا جارہا ہے ’بیرونی ممالک کی ایما پر کام کرنے والے کرائے کے قاتلوں نے میرے گھر پر حملہ کیا۔یہ بات انہوں نے غیر ملکی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔میر شفیق الرحمان مینگل نے کہا کہ ان کے گھر پر دھماکے کے فوراً بعد متعدد مسلح حملہ آور گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ان کے محافظوں، رشتہ داروں اور ساتھیوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھیوں نے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہ حملہ آور مارے گئے جو گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر ہمارے ساتھی بہادری کا مظاہرہ نہ کرتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔’’میر شفیق الرحمان مینگل نے الزام عائد کیا کہ بیرونی ممالک کی ایما پر کام کرنے والے ‘‘کرائے کے قاتلوں’’ نے ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں ان کے 17 ساتھی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے محافظوں کی مؤثر جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے، جبکہ کچھ زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے مطابق انہیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چھ حملہ آور مارے گئے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر ابھی تک کوئی تصدیق یا اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔میر شفیق الرحمان مینگل نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے انہیں سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ اہلکار پہلے لیویز فورس کا حصہ تھے، بعد ازاں پولیس میں ضم ہوئے اور ان میں سے اکثر ان کے رشتہ دار اور علاقے کے رہائشی تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حملے کا اصل ہدف وہ خود تھے، لیکن ان کے ساتھیوں کی جرات، مزاحمت اور بروقت کارروائی کی وجہ سے حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔کالعدم تنظیموں کی جانب سے مسلسل نشانہ بنائے جانے سے متعلق سوال پر میر شفیق الرحمان مینگل نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی ہمیشہ نظریہ پاکستان کے حامی رہے ہیں، اسی وجہ سے انہیں مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے ان کے نظریات اور مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال بھی ان کے بڑے بھائی میر عطاالرحمان مینگل کو ایک حملے میں شہید کر دیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل بھی ان کے رشتہ داروں اور ساتھیوں پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول، مسلسل قربانیوں اور جانی نقصانات کے باوجود وہ اپنے مؤقف اور جدوجہد سے پیچھے ہٹنے والے نہیں اور اپنے نظریات پر قائم رہیں گے۔
ہمیشہ نظریہ پاکستان کے علمبردار رہے، اسی لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے،حملوں سے نظریات تبدیل نہیں ہوں گے، اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، شفیق الرحمان مینگل
28













