کوئٹہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان کے حالات واقعی ٹھیک ہیں تو لوگ دھرنوں پر کیوں بیٹھے ہیں،جس ریاست میں سچ بولنا گناہ اور حق مانگنا جرم بن جائے، وہ ریاست زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ میں زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف کا نظام موجود ہے تو سانحہ زیارت سمیت دیگر واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اپنے ہی اداروں اور فیصلوں پر اعتماد نہیں کر رہی، جو سب سے بڑا المیہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لیویز کو ختم کرکے پولیس میں ضم کرنے سمیت بلوچستان میں کئی تجربات کیے گئے مگر یہ تمام تجربات ناکام ثابت ہوئے۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف کمیٹیاں اور نمائندے بھیجے جاتے ہیں لیکن مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کیا جاتا، اس لیے احتجاج کرنے والوں کو اپنے مؤقف اور حق پر ثابت قدم رہنا چاہیے
۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں ایک شخص کے قتل پر بھی حکومتیں جوابدہ بنتی ہیں، لیکن یہاں اتنے سانحات کے باوجود کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اگر حکمران واقعی عوام کے غم میں شریک ہوتے تو اپنے عہدوں اور اسمبلی نشستوں سے استعفے دے کر متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ غیرت، حیا اور عوامی احساسِ ذمہ داری نہ خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی قرض پر لی جا سکتی ہے بلکہ یہ کردار کا حصہ ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں انہوں نے سانحہ ہنہ، سانحہ زیارت اور بلوچستان کے دیگر واقعات پر ہر فورم پر آواز بلند کی ہے اور متاثرین جو بھی احتجاجی لائحہ عمل طے کریں گے، بی این پی ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔بی این پی سربراہ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پر ظلم و ناانصافی کا سلسلہ ریاست کے قیام سے جاری ہے۔ حکمرانوں کو بلوچستان کے وسائل، گیس، معدنیات اور قدرتی ذخائر تو نظر آتے ہیں مگر یہاں کے عوام کی محرومیاں نظر نہیں آتیں۔ بلوچ اور پشتون عوام کے حقوق اور جانوں کو نظر انداز کرکے صرف وسائل سے فائدہ اٹھایا گیا، جبکہ ماضی میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام کو دبانے کے لیے مسلح گروہوں اور غیرقانونی ہتھکنڈوں کا سہارا لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال کوئٹہ سانحے سمیت متعدد واقعات میں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا لیکن متاثرین کو انصاف نہ مل سکا۔ بلوچستان میں ہزاروں خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی یا ان کی لاشوں کے منتظر ہیں، جبکہ سانحہ زیارت کے متاثرین کم از کم اپنے پیاروں کی لاشیں تدفین کے لیے حاصل کر سکے، لیکن کئی خاندان ایسے ہیں جنہیں آج تک اپنے عزیزوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
حکمرانوں کو بلوچستان کے وسائل، گیس، معدنیات اور قدرتی ذخائر تو نظر آتے ہیں مگر یہاں کے عوام کی محرومیاں نظر نہیں آتیں، اگر بلوچستان کے حالات واقعی ٹھیک ہیں تو لوگ دھرنوں پر کیوں بیٹھے ہیں، سردار اختر مینگل
32













