سانحہ زیارت کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، محمود خان اچکزئی

28

کوئٹہ: اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سانحہ زیارت کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، بے گناہ افراد کے قتل پر خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت استعفیٰ دے جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔کوئٹہ میں سانحہ زیارت کے خلاف جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بغیر ہتھیار اور اسلحہ پولیس اہلکاروں کو بھیجنے والے ذمہ داران سے لے کر اعلی حکام تک سب کا احتساب ہونا چاہیے اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ موجودہ حکومت مستعفی ہو، کیونکہ یہ حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی اور وزیر اعظم کے پاس فیصلوں کا اختیار نہیں، ایسے بے اختیار حکمرانوں سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی جانیں اتنی سستی نہیں کہ انہیں اس طرح قربان کر دیا جائے۔ سانحہ کے متاثرین کے ساتھ پیش آنے والے سلوک کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لاشوں کو جس انداز میں کوئٹہ لایا گیا وہ ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر ایک جنگ مسلط کی گئی ہے، لیکن پشتون عوام اپنے حقوق، عزت اور وطن کے دفاع کے لیے کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قوم دہشت گرد نہیں، بلکہ امن پسند قوم ہے جو اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بلوچ عوام سے مشاورت کے بعد احتجاج کا دائرہ مزید بڑھایا جائے گا اور دھرنا جاری رہے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ احتجاجی دھرنے ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر دفاتر کے باہر بھی منعقد کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چلانے کا واحد راستہ تمام اقوام کے ساحل و وسائل کا احترام ہے۔ پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی اقوام کے حقوق تسلیم کرنا ہوں گے اور جہاں سے معدنیات نکلتی ہیں وہاں کے مقامی لوگوں کو ان کا حصہ دینا ہوگا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اداروں کو آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے، سیاست عوام کے ووٹ سے ہونی چاہیے اور عوام جسے منتخب کریں وہی حکمران ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت صرف باتوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے، ظلم کے خلاف منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اگر حالات اسی طرح جاری رہے تو مسائل مزید سنگین ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں