ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کیلئے بلوچستان کی سرزمین تنگ کر دی جائے گی، وزیراعلیٰ کا ہنہ اڑک کا دورہ، آپریشن شعبان کے جوانوں کو خراج تحسین

23

کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کے روز ہنہ اڑک کے گاو¿ں ببری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن شعبان کا جائزہ لیا اور آپریشن میں شریک پولیس فورس کے جوانوں سے ملاقات کی۔وزیر اعلیٰ نے پولیس اہلکاروں سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے ان کی بہادری، عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور فرض شناسی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس، لیویز، فرنٹی¿ر کور اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوان قوم کے حقیقی ہیرو ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پوری قوت، تسلسل اور فیصلہ کن انداز میں جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے لیے بلوچستان کی سرزمین تنگ کر دی جائے گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پر پولیس فورس کے جوانوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اپنے درمیان پا کر مسرت کا اظہار کیا اور ان کے ہمراہ “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ وزیر اعلیٰ نے جوانوں کے بلند حوصلے اور جذبہ حب الوطنی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے بہادر سپوت دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مضبوط بازو ہیں۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہنہ اڑک سانحے کے شہداءکے اہل خانہ سے ملاقات کی، ان سے اظہار تعزیت کیا، فاتحہ خوانی کی اور شہداءکے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے لواحقین کو یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور شہداءکے خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور مکمل سرکاری معاونت فراہم کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہداءکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام، دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک بلوچستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں