کوئٹہ محکمہ تعلیم بلوچستان نے بجٹ اجلاس کے روز بلوچستان گرینڈ الائنس کی احتجاجی تحریک میں شرکت اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر کرنے کے الزام میں صوبے بھر کے مجموعی طور پر 32 اساتذہ اور ملازمین کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف مزید انکوائری کا حکم دے دیا۔محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بجٹ اجلاس کے موقع پر بلوچستان گرینڈ الائنس کے احتجاج میں شرکت کرنے اور پولیس کی جانب سے گرفتار ہونے والے 26 اساتذہ اور ملازمین کے خلاف بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ (بی ای ای ڈی اے) 2011 کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں معطل کردیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معطل کیے جانے والے اساتذہ اور ملازمین کا تعلق جھل مگسی، کچھی، کوئٹہ، ژوب، لورالائی، پشین سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے ہے جبکہ ان کے خلاف مزید محکمانہ انکوائری بھی شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔محکمہ تعلیم کے مطابق بلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر اسکول بند کرانے اور تدریسی سرگرمیاں متاثر کرنے کے الزام میں ضلع پشین کے مزید 6 اساتذہ کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول مچان پشین کو بند کرانے اور تدریسی عمل میں خلل ڈالنے کے الزام میں وائس پرنسپل سمیت 6 اساتذہ کو 90 روز کے لیے معطل کیا گیا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) پشین کو اس معاملے کا انکوائری آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔محکمہ تعلیم نے اپنے اعلامیے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ احتجاج میں شرکت اور تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا سرکاری ملازمین کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے، اسی لیے متعلقہ ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔محکمہ تعلیم بلوچستان کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے بعد صوبے میں احتجاجی اساتذہ اور ملازمین کے خلاف کارروائی کے تحت معطل کیے گئے ملازمین کی مجموعی تعداد 32 ہو گئی ہے۔
بلوچستان: احتجاج اور تعلیمی سرگرمیوں میں خلل کے الزام پر 32 اساتذہ و ملازمین معطل، انکوائری کا حکم جاری
1











