ایران امریکا جنگ بندی کے اسلام آباد ایم او یو پرعملدرآمد کیلئے تکنیکی مذاکرات کا پہلار دورشروع ہوگیا، پہلے سیشن میں دو طرفہ اور سہ فریقی مذاکرات ہورہےہیں،مذاکرات میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کےنمائندے شریک ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور قطر کی ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق بات چیت ہوئی،جس میں مفاہمتی یادداشت کے تحت ابتدائی طور پر 6 ارب ڈالر جاری کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے،منصوبے پر عملدرآمد کیلئے ایرانی کی منظوری لازمی ہوگی۔
ایرانی میڈیارپورٹس کےمطابق ایرانی اسپیکرباقرقالیباف کی قطری وزیراعظم شیخ محمدبن عبدالرحمان سےملاقات ہوئی،ملاقات میں مفاہمتی یادداشت ،لبنان سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
اس سے پہلے وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈ مارشل کی امریکی نائب صدر سےملاقات ہوئی،وزیراعظم اور فیلڈمارشل کاجےڈی وینس سےمصافحہ کیا،رہنماؤں نے خوشگوار موڈمیں ایک دوسرےکوگلےلگایا، اسٹیو وٹکوف اورجیرڈکشنربھی موجود تھے،ایران امریکا تکنیکی مذاکرات کو آگے بڑھانےپربات چیت ہوئی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نےاپنےبیان میں کہا کہ دوپہر کے وقت امریکا ،ایران ،پاکستان اورقطر کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوگا،برگن اسٹاک میں ہونیوالا اجلاس ایک روزہ ہوگا، لبنان میں جنگ بندی مذاکرات کا اہم ایجنڈا ہوگا۔
ترجمان دفترخارجہ کےمطابق پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان طےمفاہمتوں پرعملدرآمد کے لیے کردار جاری رکھےگا،سوئس مذاکرات کےموقع پر وزیراعظم شہبازشریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اورامریکا کےوفود سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں،ملاقاتوں میں مذاکرات اورپائیدار امن کے لیےپاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔
ترجمان دفترخارجہ کےمطابق وزریراعظم کی ایران،قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے وفود سے دو طرفہ ملاقاتیں ہوسکتی ہیں،ملاقاتوں میں مذاکرات اورپائیدار امن کےلیےپاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا، بحران میں پاکستان کی سہولت کاری اصولی، متوازن اور تعمیری مؤقف کی مظہرہے،ان میں امریکا ایران کےابتدائی مذاکراتی ادوارکی میزبانی اورمسلسل سفارتی رابطے شامل ہیں، یہی پاکستانی کردار بالآخر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے کا باعث بنا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہےخلیج بحران میں پاکستان کی سہولت کاری اصولی، تعمیری اور متوازن مؤقف کی مظہر ہے،امریکا ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی میزبانی اور مسلسل سفارتی رابطے پاکستان کی عالمی امن کیلئے مخلص اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے،پاکستان کا یہی کردار بالآخر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے کا باعث بنا۔
سوئس وزارت خارجہ کاکہنا ہے کہ سوئٹزرمیں پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہیں،پاکستانی مذاکرات کیلئے زیوخ سے برگن اسٹاک چلا گیا،پاکستان بطور ثالث ایران امریکا مذاکرات میں شریک ہے۔











