کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ میں نوجوان کے ساتھ مبینہ زیادتی اور تشدد کے افسوسناک واقعہ میں ملوث مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملزمان کی گرفتاری اور واقعہ کی مکمل تحقیقات کی ہدایت جاری کی تھی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے
شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس سنگین اور انسانیت سوز واقعہ کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے گھناونے جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت یا معافی کے مستحق نہیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے مقدمہ کی مؤثر قانونی پیروی کی جائے گی۔ معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان متاثرہ خاندان کے دکھ اور غم میں برابر کی شریک ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ انصاف کی فراہمی کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں اس نوعیت کے سفاک اور مجرمانہ کردار نہ صرف قانون بلکہ انسانی اقدار کے بھی دشمن ہیں، لہٰذا ایسے عناصر کا سخت احتساب ناگزیر ہے شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت کے مطابق واقعہ کی تحقیقات ہر پہلو سے جاری ہیں اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی ذمہ دار شخص قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہریوں کے جان، مال اور عزت و وقار کا تحفظ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور ایسے جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری رہے گا۔ g
قلعہ سیف اللہ زیادتی و تشدد کیس: وزیراعلیٰ کے نوٹس پر مرکزی ملزمان گرفتار
1










