کوئٹہ: جمعیت علما اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومتی رٹ نظر نہیں آ رہی، حالات ایسے ہیں کہ لوگ اپنے علاقوں تک جانے سے بھی قاصر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ آئین اور مشاورت کے ذریعے ممکن ہے۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات سے چلانے والے تمام لوگ واقف ہیں مگر مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آمریت دونوں کے تجربات ناکام ہو چکے ہیں، اب ملک کو آئین کے مطابق چلانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاستدانوں کو مکمل مواقع نہیں دیے گئے جبکہ پارلیمنٹ کی اہمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ تمام مسائل کا حل آئین میں موجود ہے اور کسی پر جبری طور پر حکومت مسلط نہیں ہونی چاہیے۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر کہا کہ صوبے بنانا انتظامی معاملہ ہے تاہم اس حوالے سے عوام کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کیک کاٹ کر نہیں بنائے جاتے بلکہ ہر فیصلہ مشاورت سے ہونا چاہیے اور قوموں کی شناخت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے اور وہاں کے عوام دنیا کو اپنی مشکلات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی آواز کو سننے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں انہیں چاہیے کہ اپوزیشن کا اجلاس بلائیں۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی صرف ایک علاقے کے نہیں بلکہ ایک قومی سیاسی رہنما ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا کہ بلوچستان میں جمعیت علما اسلام حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی توقعات آج بھی جے یو آئی سے وابستہ ہیں اور جماعت اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے اپنے جذبات ہوتے ہیں، تاہم سیاست میں نئے چہرے لانے کیلئے تجربہ اور سیاسی جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے، تاہم 28ویں ترمیم میں کیا لایا جائے گا اس بارے میں علم نہیں۔انہوں نے محسن نقوی کے حوالے سے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو انہیں استعفی دینا چاہیے، جبکہ انہوں نے مارشل لا ادوار میں آئین کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ذکر کیا۔مولانا فضل الرحمن نے ڈاکٹر مالک بلوچ سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ڈاکٹر مالک بلوچ وزیر اعلیٰ بن رہے ہیں یا نہیں۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومتی رٹ نظر نہیں آ رہی، مسائل کا حل طاقت نہیں آئین ہے، مولانا فضل الرحمن
33













