مستونگ اندھیروں میں، حکام خاموش

47

تحریر: عارف اسماعیل

مستونگ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ شہریوں کے لیے ایک مستقل پریشانی بنتا جا رہا ہے۔ بجلی کی بار بار بندش نے گھریلو زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور تعلیمی معمولات کو متاثر کر رکھا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ عوام کی ان مشکلات کا ذمہ دار کون ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کب کیے جائیں گے؟

بجلی کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں تعلیم، کاروبار اور گھریلو امور کا نظام بجلی کے بغیر چلانا آسان نہیں۔ اس کے باوجود مستونگ کے شہریوں کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ بجلی کب بند ہوگی اور کب بحال ہوگی، اس بارے میں غیر یقینی صورتِ حال عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

اس مسئلے کا سب سے تشویش ناک پہلو طلبہ کی تعلیم ہے۔ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کو گھر میں مطالعے کے لیے مناسب ماحول درکار ہوتا ہے، لیکن بجلی کی بار بار بندش ان کی پڑھائی کا تسلسل متاثر کرتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے محنت کرتے ہیں، مگر جب بنیادی سہولتیں ہی میسر نہ ہوں تو ان کی پریشانی بڑھنا فطری ہے۔ کیا ان طلبہ کی تعلیمی مشکلات متعلقہ اداروں کی توجہ کی مستحق نہیں؟

دوسری جانب سردیوں کی آمد کے ساتھ بجلی کی فراہمی کا مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ سرد موسم میں بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی ضروریات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے پیشگی منصوبہ بندی کریں اور عوام کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

اصل سوال صرف لوڈشیڈنگ کا نہیں، بلکہ عوامی شکایات پر کارروائی کا بھی ہے۔ اگر کسی مسئلے کی بار بار نشاندہی کی جائے اور اس کے باوجود شہریوں کو نمایاں بہتری محسوس نہ ہو تو متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ بجلی کی بندش کی وجوہات کیا ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مستونگ کے عوام متعلقہ حکام اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے، بجلی کی بندش کا واضح شیڈول جاری کیا جائے اور فراہمی بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں