چین میں نوے فیصد لوگ ذاتی گھروں میں رہتے ہیں۔ مضافاتی علاقوں میں رہائش گاہوں کی ذاتی ملکیت رکھنے والے افراد کی شرح مزید بلند ہے۔یہ تو بہرحال چین کے شہریوں کو حاصل سہولیات اور راحت کا تذکرہ ہے، میرے نزدیک اس سے بھی بڑی بات عالمی سطح پر یہ ہوئی، جسے میں چین کا بنی نوع انسان پر احسان سمجھتا ہوں، اس نے دنیا کی تمام اشیاء، اس کرہ ارض پر بسنے والے ہر کس و ناکس کی دسترس میں کر دی ہیں۔ میں سو فیصد لوگوں کی قوتِ خرید کی بات نہیں کرتا مگر اس جہان میں بسنے والے لوگوں کی غالب اکثریت روزمرہ کے استعمال کی اشیاء اور اس ضمن میں نت نئی ایجادات سے فیض یاب ہو سکتی ہے۔ مغربی دنیا میں صنعتی انقلاب بہت پہلے آ چکا تھا مگر جب تک اہل مغرب انڈسٹری کے کرتا دھرتا رہے، ٹیکنالوجی بالخصوص اور روزمرہ گھریلو ضرورت کی اشیاء بالعموم خوشحال طبقے کے لیے مخصوص رہیں۔ محنت کش طبقے کے لیے تو ان آلات کا حصول ناممکن تھا ہی، متوسط طبقے کی پہنچ اور قوت خرید سے یہ اشیاء باہر رہیں۔ جاپان میں تو یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا جسے اعجازِ انقلاب کہنا بے جا نہ ہوگا، جس چائے پینے کے کپ اور پانی پینے کے لیے استعمال ہونے والے شیشے کے گلاس کی بازار میں قیمت ایک ہزار روپے تھی، چین نے بالکل ویسا ہی کپ اور گلاس سو روپے میں فراہم کر دیا، اگرچہ یہ روزمرہ استعمال کی معمولی اشیاء کہی جا سکتی ہیں مگر ان سے زندگی میں ایک بہت بڑی سہولت پیدا ہو گئی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ہم فلمیں دیکھنے کے لیے سی ڈی پلیئر استعمال کرتے تھے جس کی عمومی قیمت ایک لاکھ روپے ہوتی تھی۔ چونکہ جاپان کی معروف کمپنیوں کے بنے ہوئے ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ سی ڈی پلیئر خراب ہوا تو تبدیل کرنے کے ارادے سے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ دکاندار نے سونی، توشیبا اور پیناسونک کے آلات دکھائے جو سبھی ایک لاکھ روپے سے زیادہ تھے۔ وہاں ایک چینی ساختہ پلیئر دیکھا تو اس کی قیمت پانچ ہزار روپے تھی۔ میں نے دکاندار سے شرارتاً پوچھا کہ بھائی یہ اتنا سستا کیوں ہے؟ دکاندار نے بڑی معصومیت اور سنجیدگی سے جواب دیا کہ اصل میں اس کی ایک خرابی ہے کہ یہ غیر لائسنس یافتہ سی ڈی بھی چلا دیتا ہے، جبکہ جاپان کے بڑے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سی ڈی پلیئرز کی یہ خوبی ہے کہ وہ پائریٹڈ سی ڈی (اس کا ترجمہ قزاقی توے کرتے ہوئے ذرا تامل ہو رہا ہے) کو نہیں چلاتے۔ ہم تو عموماً پاکستانی ویڈیوز سی ڈی دیکھا کرتے تھے، اس لیے دکاندار کے نزدیک جو خرابی تھی وہ ہمارے لیے تو خوبی تھی، لہٰذا پانچ ہزار روپے میں خرید کر گھر لے آیا جو آج بھی ٹھیک چل رہا ہے۔ ہزار روپے کی چیز کو سو روپے قیمت میں دستیاب بازار میں لے آنا صارفین کے اوپر چین کا احسان ہے۔
میرے لیے خوشگوار حیرت کی بات تھی کہ چینی کرنسی یوآن کا نشان یعنی (¥) وہی ہے جو کہ جاپانی کرنسی ین کا ہے۔ اس کے پیچھے شاید نوآبادیاتی عہد کی تاریخ بھی ہو سکتی ہے، جب جاپان کا چین پر قبضہ تھا۔ آج کل ایک یوآن ہمارے 40 روپے کے آس پاس، برابر چل رہا ہے۔ چین جاپان کا مشترکہ ذکر کر رہے ہیں تو یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ گزشتہ چند دہائیوں میں ان لوگوں کے قد میں واضح طور پر اضافہ ہوا ہے، ازراہِ تفنن ارتقاء فقط معیشت کا ہی نہیں ہوا، عام آدمی کے قد کاٹھ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، روایتی چینی لوگ جاپانیوں کی طرح چھوٹے قد کے ہوا کرتے تھے۔ شاید یہ خوراک کی تبدیلی اوربہتری کا نتیجہ ہے کہ اب عمومی چینی لوگ ماضی کے مقابلے میں دراز قد ہو گئے ہیں۔ امریکی جزیرے ہوائی پرقائم پرل ہاربر میوزیم میں رکھی جاپانی فوجیوں کی وردیاں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں انتہائی کوتاہ قامت تھے، چین میں بھی یہی تبدیلی نظر آتی ہے۔
بجلی کی قیمت چین میں ہمارے ہاں بجلی کے نرخوں سے آدھے سے بھی کم ہے۔ واپڈا کی بجلی کے ریٹ پر گھریلو صارفین تو صبر شکر یا حال دہائی دے کر گزارہ کر ہی لیتے ہیں، انڈسٹری میں مگر عالمی سطح پر مقابلے کی فضا ہے، اس لیے سستے خام مال اور سستی بجلی کے سبب چینی مصنوعات ہم نے سستی تیار ہو رہی ہیں لہٰذا ہمارے صنعت کاروں کے لیے چینی مصنوعات کا مقابلہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ انقلاب اور رومان کے شاعر فیض احمد فیض روس کا دورہ کر کے واپس آئے تو انہوں نے ایک بڑا ہی خوبصورت سفرنامہ لکھا ”مہ و سالِ آشنائی”، نقادوں نے اصرار کیا کہ فیض صاحب نے جیسا ”سب اچھا ہے” کے مصداق سوویت یونین کا منظر نامہ پیش کیا ہے وہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ نقاد اپنی تنقید میں حق بجانب بھی ہوں گے مگر فیض احمد فیض نے جن باتوں کا تذکرہ کیا وہ سچی تھیں، اس کتاب میں کوئی جھوٹی بات انہوں نے نہیں لکھی مگر مخالفین کی تندوتیز تنقید میں اپنی جگہ وزن تھا۔ سوال یہاں یہ ہے کہ کیا اہلِ قلم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تصویر کے تمام رخ دکھائیں؟ یا پھر اسے آزادی حاصل ہو کہ وہ جو چیز دیکھ رہا ہے اور محسوس کر رہا ہے، اسے پوری دیانتداری کے ساتھ پیش کرے؟ چین میں کمیونسٹ طرزِ حکومت قائم ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ طرزِ حکومت پسند ہے تو کچھ لوگوں کو یہ ناپسند بھی ہوگا۔ اچھی بات مگر یہ ہے کہ چین اپنے طرزِ حکومت کو ایکسپورٹ کرنے کی کوشش نہیں کرتا، جیسا کہ سوویت یونین اپنا نظام دنیا کے نصف سنچری سے بھی زائد ملکوں میں لے آیا تھا، چین دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
روس اور دیگر مغربی ممالک میں کمیونزم کیوں ناکام ہوا؟ اور چین میں یہ کامیابی سے ہمکنار کیوں نظر آتا ہے؟ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے احباب کے لیے یہ سوال بہت اہم ہے۔ اس سوال کا ایک جواب آپ کو بھارتی آئین کے خالق ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی تحریر سے ملے گا۔ جس سال بابا صاحب کہلانے والے امبیڈکر نے وفات پائی 1956ء میں، انہوں نے ایک طویل مضمون تحریر کیا ”بدھا یا کارل مارکس”۔ اب یہ تحریر کتابی شکل میں شائع ہو کر کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ اپنی اس تحریر میں بابا صاحب نے پچیس ایسے نکات بیان کیے ہیں جو بدھ ازم اور کمیونزم میں مشترک ہیں۔ میرے خیال میں اس نظام کی چین میں کامیابی کی ایک وجہ شاید یہ مشترکہ اساس بھی ہے، جیسے دونوں نظریات میں نجی و ذاتی زمین جائیداد رکھنے کی ممانعت ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر ذاتی طور پر بدھ ازم کو زیادہ پسند کرتے تھے اور اسی سبب سے وہ لاکھوں دلتوں سمیت روایتی ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مت اختیار کر گئے تھے، کمیونزم کی طرح بدھ ازم میں بھی چھوٹی بڑی ذات پات اور اونچ نیچ کا نظام نہیں ہے۔ میرے خیال میں چین چونکہ مذہبی اعتبار سے بدھ مت اکثریت کا ملک تھا، لہٰذا کمیونزم کے ساتھ اس کا ملاپ فطری اور زیادہ آسان تھا۔ ویسے تو ایران کے اسلامی انقلاب کی بنیاد بھی سوشلسٹ طالب علموں نے رکھی تھی، ترقی پسندوں کے نزدیک شاہِ ایران کے خلاف انقلاب ملاؤں نے ہائی جیک کر لیا تھا، مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ تو مشترکہ اساس ہوگی، جس پر سوشلسٹ کارکن اور علماء اکٹھے ہو گئے؟ عہد ساز صحافی اور شاعر منو بھائی بتاتے تھے کہ ایک دن میں نے معروف مصنف انتظار حسین سے پوچھا کہ ”سنا ہے یہ شیعہ عقیدہ کے لوگ آدھے سوشلسٹ ہوتے ہیں؟ انتظار حسین کا جواب تھا کہ آپ نے درست سنا ہے مگر یہ ہمیشہ آدھے ہی سوشلسٹ رہتے ہیں، کبھی پورے نہیں ہوتے۔ میرا خیال ہے کہ بدھ مت کے پیروکار بھی آدھے کمیونسٹ ہوتے ہیں، ہاں! البتہ چینی پورے کمیونسٹ ہیں۔
پسِ تحریر: ایک ادیب دوست علی رضا احمد نے یہ تصحیح کروائی ہے کہ چین کے شہر گوانگژو میں واقع مزار سعد بن ابی وقاص کا نہیں بلکہ ان کے بھائی کا ہے، جو کہ رسول اللہ ؐ کے صحابی تھے۔









