ٹرمپ کا ایران سے معاہدے یا فیصلہ کن کارروائی کا عندیہ، فوری حملہ نہ کرنے کا اعلان

38

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی سے متعلق دو امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اسے ’’مکمل طور پر ختم کرنے‘‘ کے لیے کارروائی کرنے میں سے کسی ایک کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکا آج ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔

ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے سوال یہ ہے کہ آیا ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔

ٹرمپ نے جمعے کو بھی اشارہ دیا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی آپریشن، جسے انہوں نے ’’ایپک فیوری‘‘ سے تعبیر کیا، کر سکتا ہے۔ ان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے حوالے سے سفارتی اور فوجی دونوں امکانات پر غور کر رہا ہے، تاہم کسی نئے حملے کے لیے حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکی صدر نے فوری فوجی کارروائی کے امکان سے متعلق سوال پر کہا کہ آج ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس سے مشی گن روانگی کے موقع پر ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا امریکی حملے آج ہی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں؟

ٹرمپ نے جواب دیا کہ کیا وہ اس بارے میں پہلے سے بتائیں گے؟ تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آج کوئی حملہ نہیں ہوگا۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے اس پر کنٹرول سے متعلق بیانات خطے کی صورت حال اور عالمی توانائی منڈیوں کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں