کھڈ کوچہ کا کرفیو ختم کرکے معمولات زندگی بحال کیے جائیں، کبیر احمد محمدشہی

33

*نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمدشہی نے مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کرفیو کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرفیو کی طوالت سے مقامی آبادی سنگین مسائل اور مشکلات کا شکار ہے اور لوگوں کو خوراک، ادویات، علاج معالجے اور روزگار کی دستیابی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ متعلقہ حکام کو ایسے اقدامات کے تمام پہلووں کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ سیکورٹی کے نام پر کسی علاقے کو عوام کے لیے اجتماعی قید خانہ بنانے سے انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ کھڈ کوچہ ایک زرعی علاقہ ہے اور کرفیو کے نفاذ اور لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے باعث باغات اور فصلیں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ اسی طرح مال مویشی پالنے والے افراد بھی اپنے ریوڑوں کو چرانے کے لیے پریشان ہیں۔
روزانہ اجرت پر مزدوری کرنے والے افراد نان شبینہ کے محتاج ہورہے ہیں جبکہ خوراک کا حصول اور علاج معالجے تک رسائی بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ آئین کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے لہذا کسی بھی علاقے میں عوام کو ایسی مشکلات میں دھکیلنا آئین کے منافی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر محض کرفیو سے امن قائم ہوتا تو زہری اور نوشکی اس وقت تک امن کے گہوارے بن چکے ہوتے۔ بلوچستان میں مسائل کے بنیادی اسباب کو سیاسی طور پر حل کیے بغیر امن و استحکام کا حصول ممکن نہیں۔ بلوچستان میں طاقت کے استعمال کی پالیسی ہمیشہ سے ناکام رہی ہے مگر حکمران مکالمے کی راہ اختیار کرنے سے مسلسل گریزاں ہے۔ اگر مقتدر قوتیں واقعی بلوچستان کے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو انہیں اپنے رویوں اور پالیسیوں میں تبدیلی لا کر اعتماد پیدا کرکے سنجیدہ اور بامعنی مزاکرات کی جانب بڑھنا ہوگا۔ میر کبیر نے حکام سے مطالبہ کیا کہ کھڈ کوچہ میں فوری طور پر کرفیو کا خاتمہ کرکے عوام کی معمولات زندگی بحال کی جائیں۔۔۔*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں