وفاق بلوچستان کو نظرانداز کر رہا ہے، بجٹ بحث میں اراکین اسمبلی کا مؤقف

1

کوئٹہ ۔ بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27ء کے بجٹ پر اراکین اسمبلی نے تیسرے روز بھی بحث جاری رکھی اور حکومتی اراکین نے بجٹ کی حمایت جبکہ اپوزیشن نے بجٹ پر تنقید کی وفاقی کی جانب فنڈز نہ ہونے کہ وجہ سے ہماری اکثر اسکیمات بروقت مکمل نہیں ہوتی وفاق کی جانب سے بلوچستان کے فنڈز پر کٹوتی کی گئی ہے وفاق کو بلوچستان کی موجود صورتحال کو دیکھتے ہوئے فنڈز میں کمی کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کرنا چاہے تاکہ بلوچستان بھی ملک کے دیگر صوبوں کی طرح ترقی کے سفر پر گامزن ہو بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اگر یہاں کے وسائل کوطریقے سے استعمال میں لایا جائے تو ہمیں وفاق کی جانب دیکھنا نہیں پڑے گا اراکین اسمبلی نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ بھی صوبے میں گڈ گورننس قائم کرے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے بعض اراکین اسمبلی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بہت سے علاقے ایسے ہے جہاں بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے وزرارء اور افسران کو تمام علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ عوامی مسائل کا ادراک ہوسکے اراکین اسمبلی نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت مشکلات کے باجود صوبائی حکومت بہترین کام کررہی ہیں
روزگار کے نئے مواقعے ٹرانسپورٹ کی سہولیات صاف پانی کی فراہم اور امن وامان اولین ترجیح ہونی چاہیے ارکان کاکہناتھاکہ سی پیک منصوبے سے پنجاب مستفید ہورہاہے ہے مگر بلوچستان پر کوئی پیسہ خرچ کیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ہمیں ملکرصوبے کے ساحل اور وسائل کی جنگ لڑنی چاہیے تاکہ صوبے میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو۔بلوچستان اسمبلی کااجلاس ہفتہ کو ڈپٹی اسپیکرغزالہ گولہ کی صدارت میں 30 منٹس کی تاخیر سے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کم ہیں وفاق صوبے کوفنڈز نہیں دیتاہے ہماری 25 فی صد اسکیمات نامکمل ہیں ژوب میں پبلک ہیلتھ میں سہولیات کافقدان ہے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے وفاق صوبے کو زیادہ سے زیادہ وسائل دیں تاکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم ہوسکیں۔ رکن صوبائی اسمبلی ام کلثوم نیاز بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو مکمل نظرانداز کیاگیاہے۔ جب بات بلوچستان کے وسائل کی آتی ہے تو حکمرانوں کو بلوچستان یاد آتاہے ہم برابری چاہتے ہیں بلوچستان کے بجٹ میں صحت اور تعلیم کے لئے بڑا حصہ رکھاگیاہے معیاری تعلیم صوبے کی سب سے بڑی ضرورت ہے جس پر زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کرتے ہوئے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور وفاق بلوچستان کو زیادہ وسائل اور فنڈز دے تاکہ اس کی پسماندگی دور ہوسکے۔
ملک نعیم خان بازئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی مسلط کی گئی ہے جس سے عوام اور صوبہ متاثر ہورہے ہیں اس لئے حکومت کی جانب سے جو بجٹ پیش کیا گیا ہے وہ بہتر ہے لیکن وفاق بلوچستان کی پسماندگی اور عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کرے اور زیادہ سے زیادہ فنڈز بلوچستان کو دے تاکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے حکومت اقدامات اٹھاسکے اور دہشتگردی کو ختم کرکے لوگوں کو پر امن ماحول مہیا ہوسکے۔ رکن صوبائی اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ پی ایس ڈی پی میں تمام اسکیمات کو شامل کیاگیاہے میں بلوچستان کے غریب عوام کے لئے بولتی ہوں بجٹ بن جاتاہے لیکن وہ لکھائی کی حد تک محدود نہیں ہوناچاہیے، اس کا صحیح استعمال ہوناچاہیے لوگوں کے معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں اگر بجٹ عوام کی فلاح و بہبود، تعمیر و ترقی پرخرچ ہوجائے تو خوشحالی آسکتی ہے پورے سسٹم میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے سربراہ کو سخت ہوناچاہیے تاکہ سسٹم ٹھیک ہوجائے حالات بہتر نہیں ہیں کسی نے باہر سے آکر یہاں کے حالات درست نہیں کرے گا ہم نے خود ہی مل جل کر ان کو بہتر بنانا ہے مرد اور خواتین اراکین اسمبلی کی اسکیمات میں فرق رکھاگیاہے اس تفریق کو ختم ہونا چاہئے کیونکہ خواتین کو برابری کی بنیاد پر اسکیمات دی جائیں وہ بھی عوام کی نمائندہ ہیں نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اقدام کرنے چاہئیں کیونکہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لئے خصوصی توجہ اور فنڈز رکھنے چاہئیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہوں گی نوجوان ہی ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہے
۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق بلوچستان کا بجٹ آٹومیٹک بنایاگیاہے وزیر اعلی نے گڈ گورننس کی اچھی مثال قائم کی ہے پہلے بجٹ بند کمروں میں بنتا تھااس مرتبہ باہمی مشاورت سے ترتیب دیا گیا ہے اپوزیشن کو بجٹ پر آن بورڈ لیاگیابلوچستان کے حالات 2006 کے بعد سب کے سامنے ہیں صوبے سے کنفیوژن ختم کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان پر جو جنگ مسلط کی گئی جو را اور دیگر ملک دشمن عناصر کی جانب سے کی گئی ہے یہ حقوق کی جنگ نہیں ہے میر سرفراز بگٹی کے بیانیے سے دیگر لوگ بھی اتفاق کرنے لگے ہیں بجٹ بنانا مشکل کام ہے جب پیسے کم ہوں اہم شعبوں پر جس کا اثرعوام پر پڑتاہے ان میں صحت سب سے اہم ہے جس کو خاطرخواہ بجٹ دیاگیاجتنے بھی مسائل ہیں وہ ورثے میں ملے ہیں زمینی حقائق سے نظریں نہیں چرانی چاہیں صحت کے شعبہ میں 18 ماہ میں جو اقدامات کئے گئے وہ سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں 150 ارب کے منصوبوں سے تمام ہسپتالوں میں 6 ماہ بعد 24 گھنٹے بجلی میسر ہوگی۔اسی طرح دیگر وسائل بھی دستیاب ہوں گے۔رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل پر بات چیت کی ضرورت ہے،وفاق کو اس صوبے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کیلئے کچھ بھی نہیں رکھتا ہے روزگار کے دروازے بھی وفاق نے بند کردئیے ہیں آج وفاق بلوچستان کے وسائل پر چل رہاہے کیا
وفاق نے آج تک کوئی فیکٹری بلوچستان میں بنائی ہے ہمیں گیس اور بجلی تک میسر نہیں، خدارا وفاق بلوچستان پر خصوصی توجہ دے وفاق نے فنڈز پر توجہ دینے کی بجائے مزید کٹ لگادیاہے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتاہوں بلوچستان کا بجٹ بہت کم ہے اس میں اضافہ ہونا چاہئے وزیراعلیٰ نے وسائل کی مساوی تقسیم کویقینی بنانے کی کوشش کی ہے صوبے کیلئے 5000 ہزارملازمتیں بہت کم ہیں کیونکہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لئے مزیداسامیاں پیدا کی جائیں اگر بلوچستان میں روز گاردیناہے تو ہمیں بلوچستان کے آنے والے وقت میں وسائل اور روزگار فراہم کرنے والے محکموں لائیو اسٹاک، آبپاشی اور زراعت کے محکموں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ان میں زیادہ سے زیادہ فنڈز مہیا کرکے انہیں مزید فعال بنانا ہوگا اور ان شعبوں کی فعالیت اور صوبے سے بے رزگاری کے خاتمے کیلئے مالداری، ایریگیشن اور زراعت کے شعبے کی بہتری کیلئے آنے والے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ڈیم نہ بنائے گئے تو زراعت اور دیگر شعبے تباہ ہوجائیں گے۔ رکن صوبائی اسمبلی شاہدہ روف نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کا بجٹ کیسے سرپلس ہے ہمیں بتایاجائے غیر ترقیاتی بجٹ ترقیاتی بجٹ زیادہ ہے
، توکیسے کہیں گے کہ اچھا بجٹ ہے شاہ خرچیوں پر کٹ لگاکر عوا م کیلئے کام کرناہوگا جمہوریت کا حسن اکثریت میں نہیں بلکہ سب کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنے میں ہے صوبے کا زیادہ انحصار زراعت پرہے مگر اس کے لئے کم بجٹ رکھاگیاہے صوبائی وزیر صحت پرانے ٹراماسینٹر کو بحال رکھاجائے ینگ ڈاکٹرز اپنی ہڑتال ختم کرکے ڈیوٹی پر آجائیں گرین بسوں کے اسٹاپس پر بہت سی مشکلات ہیں انہیں دور کیا جائے۔ رکن صوبائی اسمبلی مولوی نوراللہ نے کہا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں سے بلوچستان مستفید نہیں ہورہاہے بجٹ میں صوبے کے عوام کے لئے کچھ نہیں ہے ہماری معدنیات دوسروں کو الاٹ کی جارہی ہے غیر مقامی کمپنیوں کو لیزز الاٹ کی جارہی ہیں گوادر کو مرکز کے حوالے کرنے کی بات کی جاری ہے، کیالاہور کو بلوچوں کے حوالے کریں گے کیاکراچی والے لاہور کے حوالے کراچی کریں گے اسمبلی میں بات نہیں سنی جاتی اس اسمبلی میں وزیراعلی صلاحیت کے حامل شخص ہیں بجٹ کی بہت سی کمزوریاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کی حالت زار کو بہتر بناکر امن قیام کیا جاسکے۔انہوں نے حکومت کے ترقیاتی فنڈز بیورو کریسی اور غیر متعلقہ شعبوں کے ذریعے خرچ کرنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ عمل آنے والے الیکشن میں اپنے منظور نظرلوگوں کو لانے کیلئے کیا جارہا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی صمد گورگیج نے کہا ہے کہ صوبے میں مشکل حالات میں وزیراعلی اورانکی ٹیم نے اچھا بجٹ پیش کیاجن نوجوانوں کو ورغلایاجاتاہے کہ وہ کونسی آزادی کی بات کرتے ہیں ہم نوجوانوں کو پڑھا رہے ہیں تاکہ ہم اپنے لوگوں کو آگے لے جائیں کوئٹہ میں پانی کابڑا مسئلہ ہے جس کو حل کیاجائے، ٹینکر مافیا سے ہماری جان چھڑائی جائے۔ رکن صوبائی اسمبلی ہادیہ نواز بہرانی نے کہا ہے کہ وزیراعلی نے متوازن بجٹ پیش کیاجسکے اثرات عوام تک پہنچیں گے جعفرآباد کی محرومیوں کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں کیونکہ علاقے میں گزشتہ کئی سالوں سے آنے والے سیلاب نے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور انفراسٹکچر کو نقصان پہنچایا ہے ان کی بحالی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ علاقے بھی ترقی کریں اور لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں