امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کے خلاف ایک بہت بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا حملہ ہوتا، لیکن ایران نے رابطہ کر کے مذاکرات کی درخواست کی۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اب امریکا اور ایران کے درمیان انتہائی مثبت مذاکرات جاری ہیں، 48 گھنٹوں میں ہمیں پتہ چل جائے گا کہ معاہدہ ہو گا یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بہت اچھے مذاکرات ہو رہے ہیں، ایران اس بات کو تسلیم کرنا پسند نہیں کرتا، لیکن حقیقت یہی ہے، اگرچہ یہ صورتِ حال کچھ پریشان کُن ضرور ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل اہمیت صرف عملی اقدامات کی ہے اور ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، اگر وہ معاہدہ نہیں کرتا تو یہ اس ہی کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، وہ پہلے بھی ایسا نہیں کر سکتا، لیکن اب اس پر باضابطہ طور پر مہر لگ چکی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز بہت جلد کھول دی جائے گی، ورنہ ایران کو انتہائی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور پھر آبنائے ہرمز ہر صورت کھول دی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران ایک بار پھر معاہدے سے پیچھے ہٹا تو اسے انتہائی سخت حملے کا سامنا کرنا پڑے گا، ایرانی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم وہ اقدامات نہ کر رہے ہوتے جو اس وقت کر رہے ہیں تو ایران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوتا، ہم نے اسے بہت سخت نقصان پہنچایا ہے، تاہم اصل سخت کارروائی ابھی باقی ہے اور مجھے امید ہے کہ ہمیں اس کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔














