کوئٹہ:جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و ورکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ بلوچستان کے وسائل کو مال غنیمت سمجھتے ہیں اور کرپٹ نظام کی وجہ سے بلوچستان کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں آئین کو روندنے والے ہمیں آئین کی دفاع سمجھاتے ہیں سنگین حالات کے باوجود ایس ایچ او کی مار والے وفاقی وزیر داخلہ خود غائب ہے۔ جماعت اسلامی بدل دو نظام کے تحت 7 اگست کو بلوچستان کے 21 مقامات پر دھرنے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو جماعت کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر مرتضیٰ کاکڑ، جمیل مشوانی، مولانا عبدالکبیر شاکر، عبدالولی شاکر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے سنگین حالات او رمقتدرہ سمیت حکمرانوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بلوچستان میں سیاسی کارکن،میڈیاورکزاورعوام سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ محفوظ نہیں بلوچستان میں فرائض انجام دینے کے دوران بیشتر صحافیوں نے قربانیاں دیں ہے۔ اس کے باوجود اس مقدس پیشے سے وابستہ حقیقی صحافیوں کو درپیش مشکلات اور مسائل سے چھٹکارے کے لئے حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے صحافی گونا گوں مسائل سے دو چار ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیا
بلوچستان کوایک صوبہ نہیں بلکہ کالونی سمجھاگیاہے اسی لئے اسلام آباد میں بیٹھے لوگ بلوچستان والوں کو پاکستانی نہیں سمجھتے اسلام آباد میں بیٹھے لوگ بلوچستان کے وسائل کو مال غنیمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے اسلام آباد کا مائنڈ سیٹ اپنی روش بدلنے کے لئے تیار نہیں اور کرپٹ نظام کی وجہ سے بلوچستان کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں آئین کو روندنے والے ہمیں آئین کی دفعات سمجھاتے ہیں انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کہتے ہیں کہ دہشتگرد 1 ایس ایچ او کی مار ہیں اور وہ ایس ایچ او سمیت خود بلوچستان کے سلگتے ہوئے حالات کے پیش نظر غائب ہیں اور دہشتگرد سرعام روزانہ سڑکوں پر گھوم رہے ہیں اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود اعتراف کرچکے ہیں کہ نظام ناکام ہوچکا ہے۔ اس لئے جماعت اسلامی پاکستان بدل دو نظام چلارہی ہے جس کے تحت بلوچستان کے 21 مقامات پر 7 اگست کودھرنے دیں گے جس میں جماعت کے علاوہ بلوچستان کے لوگ شرکت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 100 ارب روپے امن قائم کرنے کے لئے مختص کرنے کے باوجود امن وامان کا نام و نشان کہیں نظر نہیں آرہا لیکن وہ کراٹے کھیلنے پر لگائے جارہے ہیں بلوچستان میں سردار اور نواب کہاں ہیں؟کل انگریز نے سردار،نواب بنائے تھے اور آج اسٹیبلشمنٹ نے سردار بنائے ہیں انتظامی تقسیم میں سیاسی جماعتوں کواعتماد میں لیناچاہیے بیوروکریسی ہماری بات نہیں مانتی محمود خان اچکزئی پشتون جرگہ کرنے جارہے ہیں پہلے عمران خان کو رہائی دلوائیں پھر جرگہ کرائیں۔
اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ بلوچستان کے وسائل کو مال غنیمت سمجھتے ہیں، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ
39













