عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجہ امریکا کے ایران پر دوبارہ حملے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 2.67 ڈالر اضافے کے بعد 78.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اسی وجہ سے اس اہم بحری راستے کی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔













