قلم، شعور اور معاشرہ

55

تحریر: عارف اسماعیل

میں نے جب اپنے اردگرد کے حالات کو غور سے دیکھنا شروع کیا تو محسوس ہوا کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جنہیں لوگ محسوس تو کرتے ہیں، مگر ان کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے۔ کہیں نوجوان روزگار کی تلاش میں پریشان ہیں، کہیں بچے تعلیم کے مواقع سے محروم ہیں اور کہیں عام شہری اپنی بنیادی ضروریات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہی مشاہدات انسان کو سوچنے اور قلم اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔

میرا تعلق مستونگ سے ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں تعلیم، کمپیوٹر اور صحافت کے شعبوں سے وابستہ رہتے ہوئے لوگوں کے مسائل کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ کمپیوٹر کی تعلیم دیتے ہوئے میرا مقصد صرف طلبہ کو ہنر سکھانا نہیں بلکہ انہیں اپنے مستقبل کے لیے تیار کرنا بھی ہے۔ اسی طرح صحافت اور کالم نگاری کے ذریعے میری کوشش رہتی ہے کہ معاشرے کے ان مسائل کو الفاظ دوں جو اکثر لوگوں کی نظروں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

جب میں کسی مسئلے پر لکھنے کے لیے بیٹھتا ہوں تو میرے ذہن میں صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ ان لوگوں کے حالات بھی ہوتے ہیں جو روزانہ مشکلات سے گزرتے ہیں۔ بجلی کی طویل بندش سے پریشان طالب علم، روزگار کے لیے دربدر پھرنے والا نوجوان اور اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہوا باپ، یہ سب ہمارے معاشرے کی حقیقتیں ہیں۔ میرے نزدیک ان مسائل پر لکھنا محض کالم نگاری نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری ہے۔

میں یہ نہیں سمجھتا کہ قلم اٹھانے والا شخص ہر مسئلے کا حل پیش کر سکتا ہے، لیکن وہ مسئلے کی نشاندہی ضرور کر سکتا ہے۔ بعض اوقات ایک سچی تحریر کسی صاحبِ اختیار کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے اور کبھی یہی تحریر کسی نوجوان کے اندر امید کی نئی کرن پیدا کر دیتی ہے۔ یہی قلم کی اصل طاقت ہے۔

میرے نزدیک اچھا لکھاری وہ نہیں جو مشکل الفاظ سے لوگوں کو متاثر کرے، بلکہ وہ ہے جو آسان زبان میں ایسی بات کہے جو سیدھی دل میں اتر جائے۔ قلم کو ذاتی مفاد، نفرت اور ذاتی دشمنی سے بالاتر ہونا چاہیے۔ اختلاف ضرور ہونا چاہیے، لیکن دلیل اور احترام کے ساتھ۔

میری خواہش ہے کہ میری تحریر صرف پڑھی نہ جائے بلکہ اس پر سوچا بھی جائے۔ اگر میرے الفاظ کسی ایک شخص کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے، کسی طالب علم کو تعلیم جاری رکھنے یا کسی صاحبِ اختیار کو عوامی مسائل کی طرف توجہ دینے پر آمادہ کر دیں تو میں سمجھوں گا کہ میرے قلم نے اپنا فرض ادا کیا۔

کیونکہ معاشرے بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے عہدوں کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی ایک سچا خیال، ایک باشعور انسان اور ایک ذمہ دار قلم بھی تبدیلی کا آغاز بن جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں