مستونگ:نیشنل پارٹی کے ہفتہ وار اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر میر سکندر خان ملازئی کے منعقد ہوا۔۔ اجلاس میں صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبران آغا فاروق شاہ,ثمینہ ظفر بلوچ، رابطہ سیکریٹری حاجی نذیر بگٹی ظفر اقبال بلوچ ضلعی لیبر ونگ کے صدر ظفر بلوچ ضلعی فنانس سیکرٹری محمود بلوچ امداد بلوچ عمران ہیبت زئی رئیس ناصر سارنگزئی ناصر بلوچ نثار بلوچ، عنایت اللہ بلوچ ودیگر نے شرکت کی۔۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع مستونگ میں بجلی، گیس پانی، صحت ودیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سے ضلع مستونگ مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔ ایسے میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ایم پی اے کے لاڈلہ کی جانب سے مسلط کردہ سرکاری محکموں کے نااہل بدعنوان بیوروکریسٹس نے عوامی زندگیوں کو شدید اجیرن کردی ہیں، ضلع میں کروڑوں روپے کے واٹر سپلائی اسکیمات کے باوجود گزشتہ کئی دنوں سے سٹی اور گردونواح میں پینے کی پانی ناپید ہوا ہے عوام ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہے، محکمہ پی ایچ اء میں ایک نااہل ناتجربہ کار جونئیر ایکٹنگ ایکسین کو مسلط کیا ہے جو کوئٹہ میں بیٹھ کر ٹھیکہ ٹینڈرز، دفتری امور سر انجام دے رہے ہیں موصوف عوام اسکیموں سے اپنی اور اپنے آقاؤں کے تجوریاں بھرنے میں مصروف عمل ہے جس سے محکمہ تباہی کی دہانے پر پہنچ چکا ہے، جب عوامی حلقوں سے پانی کی بحران پر سوشل میڈیا ودیگر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتے ہیں تو بجائے محکمہ اپنے اصلاح اور مسائل حل کرنے کے وہ اپنے کرائے کے ترجمان کے ذریعے فوری سوشل میڈیا پر حقائق۔ سے ہٹ کر وضاحت یا تردید جاری کرکے خود کو بری الزمہ کرتے ہیں کرائے کے ترجمان اپنے آنکھوں سے مفادات اور مراعات کے چشمے اتار کر حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ تاکہ انھیں حقائق اور عوامی مسائل کا بخوبی ادراک ہوجائے۔۔۔۔مقررین نے کہا کہ سٹی فیڈروں پر بجلی فراہمی کے دورانیہ کم کرکے 6 گھنٹے کردیا گیا۔۔ وہ بھی کم وولٹیج اور ٹرپینگ کا شکار ہے کم وولٹیج اور ٹرپینگ سے گھریلو اور کمرشل صارفین کے قیمتی برقی آلات تیزی سے خراب ہوتے جارہے ہیں، بجلی کی دورانیے کو کم کرنے سے کاروباری حضرات اور گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس سے تمام کاروباری جو بجلی سے منسلک ہے وہ ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔
بجلی، گیس، پانی، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سے ضلع مستونگ مسائل کا گڑھ بن چکا ہے، سکندر ملازئی
31












