امریکاایران جنگ: خلیجی اتحادی ٹرمپ سے مایوس ہونے لگے، امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر غور شروع کردیا

23

امریکا ایران جنگ کے خاتمے میں مؤثر سفارت کاری میں ناکامی پر خلیجی اتحادی ممالک صدر ٹرمپ سے مایوس ہونے لگے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عرب، یورپی اور امریکی عہدیداروں کے حوالے سےدعویٰ کیا ہےکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کی حکومتیں اب ٹرمپ انتظامیہ کے طرزعمل پر ناراضی اور بےچینی کا شکار ہیں۔ خلیج کے امریکی اتحادی اس بات پر پریشان ہیں کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن کے لیے ضروری سفارتی عمل کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانے میں ناکام ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ کئی خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر بھی غور شروع کر دیا۔

تین موجودہ حکام اور ایک سابق امریکی سفارت کار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ کئی ماہ سے جاری جنگ اور ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بعض خلیجی ممالک میں یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہےکہ اپنی سرزمین پر بڑے امریکی فوجی اڈے آخر کس حد تک فائدہ مند ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ایک خلیجی ملک کے ایک اعلیٰ عہدیدار نےکہا کہ یہ جنگ ٹرمپ نے شروع کی اور اس کی قیمت ہم ادا کر رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق خلیجی ممالک اب بھی واشنگٹن کو اپنا قریبی سکیورٹی شراکت دار اور اسلحے کا ایک بڑا فراہم کنندہ سمجھتے ہیں۔ قطر اور بحرین میں بڑے امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔ تاہم بڑھتی ہوئی مایوسی کے باعث بعض ممالک نئے سکیورٹی انتظامات پر غور کر رہے ہیں اور کچھ ممالک نے اپنے متبادل راستے بھی تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو ایک سینئر یورپی عہدیدار نے امریکا کے لیے ایک اشارہ قرار دیتے ہوئےکہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ ٹرمپ کے لیے واضح اشارہ ہےکہ خلیجی ممالک اب دفاعی سکیورٹی کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں