سوراب واقعہ نے حقیقت عیاں کردی ،آئندہ مزید تباہی نظر آرہی ہے ، ڈاکٹر مالک بلوچ

33

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیرا علیٰ بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ سوراب واقعہ نے حقیقت عیاں کردی ہے اور آنے والے وقت میں بلوچستان میں مزید تباہی نظر آرہی ہے بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی حل کیا جاسکتا ہے کیونکہ سیکورٹی فورسز اور مزاحمت کار بات کرنے کو تیار نہیں نئے صوبوں کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی مزاحمت کریں گے ۔موجودہ حالات میں نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے لئے مزید تباہی کا باعث ہوگا پارٹی کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے لئے ملک گیر سطح پر بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے کرکے متحرک اقدامات اٹھائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں کوئٹہ کے رہائشی میر احمد مری کی اپنے دوستوں ، برادری ، عزیزوں اور 60 خاندانوں کے ہمراہ نیشنل پارٹی میں شمولیت کرنے کے موقع پر پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، صوبائی صدر محمد اسلم بلوچ، جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ، شاوس خان بزنجو، میر محراب مری ، ڈپٹی پارلیمانی میر رحمت صالح بلوچ ، یاسین لہڑی، داد محمد بلوچ، عبدالخالق بلوچ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ڈاکٹڑ عبدالمالک بلوچ نے میر احمد مری کو جماعت میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہم دیگر اقوام کو بھی پارٹی میں شامل کریں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی گھمبیر صورتحال اور حالات کی وجہ سے ہونے والی بمباری کے خدشات موجود تھے سوراب واقع قابل مذمت ہے اور آنے والے وقت میں بلوچستان میں مزید حالات کی کشیدگی دیکھ رہے ہیں اور ایسا نہ ہو کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ہماری بہنوں کو پتہ بھی نہ ہو اور کاروائی ہوجائے کیونکہ سوراب کے بعد مزید خطرات بڑھ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ پارٹی کو مضبوط اور فعال بنانے کے لئے اس کے تنظیمی ڈھانچے کو منظم بنایا جائے تاکہ مسائل کے حل کو جماعت ممکنہ طور پر یقینی بنائے
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی جماعت مزید مضبوط اور فعال بنانا ہے تاکہ ہم مسائل کے حل کے لئے جنگ لڑ سکیں اس کے لئے ہم باضباطہ طور پر مہم چلارہے ہیں اور ہمارا میڈیاسیل بھی متحرک ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد میں حکمرانوں کے سامنے بلوچستان کے سلگتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے 17 نکات پیش کئے ہیں جس پر عملدرآمد سے مسائل کا حل ممکن بنایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کی بجائے کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑا جاتا ہے کبھی اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے ، این ایف سی میں تبدیلی کی باتیں کی جاتی تھیں لیکن وفاق نے ان میں تبدیلی کے بغیر بلوچستان سے پیسے کٹوتی کئے ہیں اور نئے صوبے نہیں بننے چاہئے تاریخی طور پر بنیں گے تو قانونی فریم ورک میں کچھ ہوگا لیکن کچھ قوتوں کی خواہش ہے کہ صوبے بنیں لیکن اسٹیبلشمنٹ اس طرح کے شوشے چھوڑ کر سیاسی جماعتوں پر دباﺅ ڈالتی ہے اور جس پر وہ کامیاب ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علما اسلام سمیت بڑی جماعتیں صوبوں کے قیام کیلئے راضی نہیں کیونکہ اس عمل سے مشکلات کم نہیں ہوں گی بلکہ بڑھیں گی ملک کو مزید آگ میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ سیاسی جماعتیں خامخواہ اس پر خوفزدہ ہوکر باتیں کررہی ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزارتیں نیشنل پارٹی کے پیچھے بھاگتی ہے جس کا واضح ثبوت 2002ءاور اس کے بعد حالیہ اسمبلی بننے سے قبل بھی ہمیں وزارتوں کی آفر ہوئی لیکن ہم نے مسترد کردی ہماری کوشش ہے کہ صوبے میں لگی ہوئی آگ کو سیاسی جماعتوں اور بہی خواہوں کے ساتھ ملکر ٹھنڈا کرے جو پاکستان کے استحکام کے لئے ہماری ترجیح ہے نہ کہ وزارتوں کے لئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی وزیر خود کابینہ کا حصہ ہے اور نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑ کر قیادت کو خوفزدہ کررہے ہیں
جبکہ اٹھارویں ترمیم کے تحت زراعت، ہیلتھ اور دیگر محکمے پہلے ہی صوبوں کے پاس ہےں ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک اور بلوچستان کو جملہ مشکلات سے نکالے اس کے لئے ہم نے آل پارٹیز کانفرنس میں اپنا موقف واضح کیا ہے اور بڑی جماعتوں سے رابطے کریں گے تاکہ وفاق کو پیش کئے گئے 17 نکات پر عملدرآمد کرکے حالات کو بہتر بنایا جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات کی بہتری کے لئے نیت کا فقدان ہے اگر ہماری نیت ٹھیک ہے تو ہم تھوڑی بہت بہتری لاسکتے ہیں اور ذمہ دار اپنا کردار ادا کریں تو جنگ کو کم کیاجاسکتا ہے۔ اس وقت حالات اس نہج پر ہے کہ سیکورٹی فورسز اور مزاحمت کار بات کرنے کو تیار نہیں معاملات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ہم صوبے سمیت ملک کے کونے کونے میں جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے مسائل کو بہتر بناکر امن کا گہوارہ بنایا جاسکے۔ کیونکہ جنگ مسئلے کا حل نہیں بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے اگر سیاسی اقدامات اٹھائے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ لگنے والی آگ ٹھنڈی نہ ہوسکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو معاملات حل کرنے کے لئے آگے بڑھنے کی اجازت نہیںدی جارہی ہے نہ ہی وہ سپیس اور موقع دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے سیاسی جماعتیں اصولوں پر سمجھوتہ کررہی ہے حالانکہ انہیں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیںکرنا چاہئے۔ اس موقع پر کوئٹہ رہائشی میر احمد نے اپنے دوستوں عزیز و اقارب اور ساتھیوں سمیت 60 خاندانوں کے ہمراہ پارٹی عوام دوست پالیسیوں سے متاثر ہوکر نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں نیشنل پارٹی ملک اور صوبے کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لئے میں اپنے ساتھیوں سمیت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور اسلم بلوچ کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے شامل ہوا ہوں اور پارٹی کو مضبوط اور فعال بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کروں کیونکہ فارم 47 کے حکمرانوں نے بلوچستان کو سلگتی ہوئی آگ بدترین کرپشن ، بد امنی، بد انتظامی میں دھکیل دیا ہے جس کو سیاسی اور مخلص قیادت ہی ان مسائل سے چھٹکارا دلا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں