بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کے لیے بڑی طاقتیں سرگرم ہیں، گورنر بلوچستان

28

کوئٹہ / گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے تاہم اس کی بہتری کے لیے مثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کے لیے بڑی طاقتیں سرگرم ہیں، لیکن حکومت حالات کو بہتر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ وہ ڈیجیٹل ہیلتھ پروگرام سے مطمئن ہیں، کیونکہ جدید ڈیجیٹل نظام صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک سیاسی کارکن ہیں اور انہوں نے کبھی بھی مذاکرات اور بات چیت سے انکار نہیں کیا۔ ان کے بقول، ہر جنگ اور ہر تنازع میں مذاکرات کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور مسائل کا پائیدار حل بھی بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے شیخ جعفر مندوخیل نے کہا کہ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جو سیاسی جماعتوں کے اندرونی نوعیت کے ہوتے ہیں اور انہیں عوامی سطح پر بیان نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومتوں میں اتحادی جماعتوں کے تحفظات سامنے آتے رہتے ہیں، جنہیں باہمی مشاورت سے دور کیا جاتا ہے۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے سے زیادہ اہم صوبے کی ترقی، استحکام اور عوامی مفاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ تاحال نامکمل ہے اور اسے جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہیے۔وزیراعلی بلوچستان کی مدت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ سوال میر سرفراز بگٹی سے کیا جانا چاہیے۔ینگ ڈاکٹرز کے حوالے سے گورنر بلوچستان نے کہا کہ وہ ہمارے بھائی ہیں، سیکرٹری صحت کو ہدایت کی جائے گی کہ ان کے ساتھ بہتر انداز میں معاملات چلائیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈاکٹروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری دیانتداری سے انجام دیں اور عوام کو بہتر طبی خدمات فراہم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں