بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے، آمدنی کا بڑا حصہ ترقی پر خرچ کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

33

ؓٓکوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن، عوام کے بنیادی حقوق کے حصول، وسائل کی منصفانہ تقسیم، بدامنی، بدعنوانی اور ناانصافی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی عملی اور بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے عوام دہائیوں سے محرومی، پسماندگی، بے روزگاری، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں، صوبے کے عوام کو محض وعدوں اور نعروں کے بجائے عملی اقدامات اور اپنے حقوق کا تحفظ چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں مختلف وفود سے ملاقات اور ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، لیکن افسوس کہ یہاں کے عوام آج بھی صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت، روزگار، بجلی، گیس، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے، لہذا صوبے کے معدنی، ساحلی اور دیگر وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کو عالمی سطح پر معاشی اہمیت حاصل ہے، مگر گوادر کے مقامی عوام کے مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ گوادر کے ماہی گیروں، تاجروں، مزدوروں اور مقامی آبادی کو ان کے جائز حقوق، روزگار، کاروبار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد مقامی آبادی کو مزید محروم کرنا نہیں بلکہ انہیں بااختیار بنانا اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہوسکتا۔ بدامنی، بھتہ خوری، لوٹ مار، منشیات، بدعنوانی اور عوام کے ساتھ ناروا سلوک کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ حکومت امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی مثر اقدامات کرے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پورے ملک میں اگر کوئی جماعت مسلسل عوامی حقوق، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، بدعنوانی اور ظلم و ناانصافی کے خلاف میدانِ عمل میں موجود ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ذاتی اور سیاسی مفادات کے بجائے عوامی مسائل کو ترجیح دی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں دھرنے، احتجاج اور عوامی رابطہ مہم اسی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتیں بھی ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں روزگار، معیاری تعلیم، فنی تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کو مایوسی سے نکال کر تعمیری سرگرمیوں کی طرف لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ اسی طرح خواتین، مزدوروں، کسانوں، ماہی گیروں اور تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لیے بھی موثر پالیسی تشکیل دی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور حقوق کے حصول کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن راستہ اختیار کرے گی۔ ہمارا مقصد کسی فرد یا ادارے سے محاذ آرائی نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق دلانا، صوبے میں حقیقی امن قائم کرنا، کرپشن اور ناانصافی کا خاتمہ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو متحد ہوکر اپنے حقوق کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا۔ جب عوام اپنے آئینی حقوق کے لیے منظم اور متحد ہوں گے تو حکمرانوں کو عوامی مسائل حل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ جماعت اسلامی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور بلوچستان کو امن، خوشحالی،تعلیم، روزگار اور انصاف کا گہوارہ بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں