کراچی:کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے حکومتِ بلوچستان کی مجوزہ میڈیا پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پالیسی میں بنیادی نوعیت کی خامیاں موجود ہیں۔ اگر ان خامیوں کو فوری طور پر دور نہ کیا گیا تو یہ پالیسی اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بجائے میڈیا کے شعبے میں بے ترتیبی، عدم مساوات اور بدعنوانی کو فروغ دے گی۔ سی پی این ای کے جاری کردہ بیان میں درج ذیل نکات پر خصوصی توجہ دلائی گئی ہے کہ الیسی کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے واضح قواعد و ضوابط اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر نافذ کیا گیا ہے، جس سے اس کے شفاف اور منصفانہ نفاذ پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مروجہ پالیسی کے تحت کوئی بھی پرنٹ اخبار باقاعدہ اشاعت کے کم از کم دو سال بعد سرکاری اشتہارات کا اہل بنتا ہے، جبکہ نئی میڈیا پالیسی میں کسی بھی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو محض رجسٹریشن کے بعد سرکاری اشتہارات کے حصول کا اہل قرار دیا گیا ہے۔ یہ واضح طور پر غیر مساوی اور امتیازی معیار ہے۔
اس پالیسی کے نتیجے میں غیر پیشہ ور وی لاگرز، انفلوئنسرز اور عارضی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بغیر کسی مؤثر جانچ پڑتال یا معیار کے سرکاری اشتہارات حاصل کر سکیں گے، جس سے صحافتی اقدار اور پیشہ ورانہ معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پالیسی میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ سرکاری اشتہارات پہلے صرف دو اخبارات کو جاری کیے جائیں گے۔ اس شق کے نتیجے میں محدود تعداد میں اخبارات کی اجارہ داری قائم ہوگی، جبکہ دیگر قومی، علاقائی اور مقامی اخبارات کو نظر انداز کیے جانے کا خطرہ ہے۔خصوصاً بلوچستان کے علاقائی اور مقامی اخبارات اس پالیسی سے شدید متاثر ہوں گے۔ اس طرزِ عمل سے مقامی صحافت کمزور ہوگی اور مقامی میڈیا کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔پالیسی میں اشتہارات کی تقسیم کے لیے واضح، شفاف اور قابلِ احتساب معیار موجود نہیں، جس سے اقربا پروری، بے ضابطگی اور بدعنوانی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
بلوچستان کے وسیع علاقوں میں آج بھی بجلی، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولیات محدود ہیں۔ ایسے حالات میں مکمل طور پر ڈیجیٹل پالیسی کا نفاذ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس کے مؤثر نتائج برآمد ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نسبتاً بہتر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر موجود ہونے کے باوجود وہاں ایسی یکطرفہ پالیسی متعارف نہیں کرائی گئی۔ ان صوبوں میں پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے درمیان نسبتاً متوازن حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔سی پی این ای حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ میڈیا پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے لیے الگ الگ اشتہاری فنڈز مختص کیے جائیں، سرکاری اشتہارات کی تقسیم میں شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظام نافذ کیا جائے، باقاعدہ اشاعت رکھنے والے اخبارات کی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ترجیح دی جائے تاکہ ذمہ دار صحافت کی حوصلہ افزائی ہو،سی پی این ای نے واضح کیا ہے کہ اگر ان تحفظات کا بروقت ازالہ نہ کیا گیا اور پرنٹ میڈیا کے جائز مفادات کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو تنظیم یہ معاملہ متعلقہ حکومتی فورمز اور دیگر مناسب ادارہ جاتی سطحوں پر بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔ سی پی این ای نے حکومتِ بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ میڈیا پالیسی پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ضروری اصلاحات کی جائیں تاکہ ایک متوازن، منصفانہ اور قابلِ عمل نظام وضع کیا جا سکے، جو پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا دونوں کے مفادات کا یکساں تحفظ یقینی بنائے۔
حکومت بلوچستان کی مجوزہ میڈیا پالیسی میں بنیادی نوعیت کی خامیاں موجود ہیں،سی پی این ای
34













