مستونگ اسٹوڈنٹس فورم MSF طلباء کی آواز، امید اور روشن مستقبل کا نام

38

تحریر۔ عارف اسماعیل

کسی بھی معاشرے کی ترقی میں نوجوانوں اور طلباء کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ طلباء صرف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے افراد نہیں ہوتے بلکہ وہی کسی قوم کے مستقبل کی بنیاد اور آنے والے کل کی امید ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہی طلباء تعلیمی مسائل، مشکلات اور ناانصافیوں کا سامنا کرتے ہیں اور ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہوتا تو ایسے میں ایک مؤثر پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو ان کے مسائل کو سمجھے، ان کی آواز بنے اور ان کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرے۔

مستونگ اسٹوڈنٹس فورم (MSF) اسی سوچ، جذبے اور مقصد کا ایک خوبصورت نام ہے۔ یہ فورم مستونگ کے طلباء کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم طلباء کے مسائل کو متعلقہ اداروں تک پہنچانے اور ان کے حل کے لیے بھرپور کوشش کرتا ہے۔ ایسے طلباء جن کے مسائل طویل عرصے سے حل طلب ہوں، جنہیں اپنے تعلیمی حقوق کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہوں یا جن کی آواز متعلقہ حکام تک نہ پہنچ رہی ہو، یہ فورم ان کے لیے امید کی ایک کرن بن کر سامنے آتا ہے۔

اس فورم کی بنیاد 2 نومبر 2024ء کو سانحہ مستونگ میں شہید ہونے والے طلباء کی یاد اور ان کے نام پر رکھی گئی۔ یہ محض ایک تنظیم کا قیام نہیں بلکہ ایک ایسا عزم تھا کہ طلباء کی تعلیم، حقوق اور بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے۔ آج اس فورم کی دوسری سالگرہ اس بات کی علامت ہے کہ ایک اچھا مقصد اگر خلوص اور مستقل مزاجی کے ساتھ شروع کیا جائے تو وہ وقت کے ساتھ ایک مضبوط آواز بن سکتا ہے۔
اس موقع پر فورم کے چیئرمین ملک عمران بلوچ، نائب چیئرمین لال جان بلوچ اور صدر فیاض بلوچ خصوصی طور پر خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، جنہوں نے اس پلیٹ فارم کو فعال رکھنے، طلباء کو متحد کرنے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی صلاحیتیں اور وقت وقف کیا۔ ان کی قیادت، محنت، مستقل مزاجی اور طلباء کے لیے عملی جدوجہد قابلِ ستائش ہے۔ ایسے نوجوان ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں جو دوسروں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔

میری جانب سے مستونگ اسٹوڈنٹس فورم کے تمام بانیان، عہدیداران، رضاکاران اور اس مقصد سے وابستہ ہر نوجوان کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ آپ کی یہ کوشش قابلِ قدر ہے کہ آپ نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر طلباء کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا۔

میری دعا ہے کہ یہ فورم ہمیشہ غیر جانب داری، اتحاد، اخلاص اور طلباء کی فلاح کے اصولوں پر قائم رہے۔ اس کی آواز مزید مضبوط ہو اور مستونگ کا کوئی بھی طالب علم اپنے جائز تعلیمی حق سے محروم نہ رہے۔
یاد رکھیے! قومیں صرف عمارتیں بنانے سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت بنانے سے ترقی کرتی ہیں۔مستونگ اسٹوڈنٹس فورم کی دوسری سالگرہ مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کارِ خیر کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور سانحہ مستونگ کے تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں