امریکا کا ایران پر بڑا حملہ، 80 سے زائد اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ، تیل کی پابندیاں بھی بحال کر دیں

28

واشنگٹن/تہران: امریکا نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت پر دی گئی عارضی رعایت بھی واپس لے لی ہے۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان قائم نازک جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق منگل کو ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا اور اس کی سمندری حملوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

امریکی فوج کے مطابق حملوں میں پاسداران انقلاب کے 60 سے زائد چھوٹے جنگی بحری جہاز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں خارگ آئل ٹرمینل، جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک شامل ہیں، میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک تجارتی گھاٹ پر نامعلوم میزائل کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض ماہی گیر کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی۔ تاہم فوری طور پر کسی شہری ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

خارگ آئل ٹرمینل، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں وہاں بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ امریکی فوج نے اپنے بیان میں اس مقام کو براہِ راست نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی۔

ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

ادھر امریکی حکومت نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی عارضی اجازت بھی واپس لے لی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے جون میں جاری کیا گیا وہ جنرل لائسنس منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت ایران کو محدود مدت کے لیے عالمی منڈی میں خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ امریکا نے متعلقہ کمپنیوں کو 17 جولائی تک تمام لین دین ختم کرنے کی مہلت دی ہے۔

اس فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں