کالعدم تنظیم خواتین بچوں کو نشانہ بنارہی ہے،خواتین اراکین اسمبلی بلوچستان

32

کوئٹہ:بلوچستان کے سیاست دان خواتین نے کہا ہے کہ کالعدم بی ایل اے عام شہریوں، خواتین، بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے، دہشت گردی ختم کرنا ہوگی۔ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر وزیراعلی مینا مجید بلوچ نے کہا کہ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے 50 سالہ بی بی حنیفہ اور 17 سالہ بیٹی کو گھر میں گھس کر فائرنگ سے قتل کر دیا۔مشیر مینا مجید نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عام شہری، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، بلوچستان میں امن، ترقی،خوشحالی اور تعلیم کو فروغ دیں گے، غیور بلوچوں کا دہشتگردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مینا مجید نے کہا کہ نوشکی میں بی ایل اے کے دہشتگردوں نے 2 خواتین کو شہید کیا، بلوچستان حکومت بزدل قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان اور بلوچ عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، غیور بلوچوں کا دہشتگردوں سے کوئی تعلق نہیں، گھروں میں گھس کر خواتین کو قتل کرنا کون سی بلوچ روایت ہے؟۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد چادراور چار دیواری کی پامالی کرکے خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، ہماری سکیورٹی فورسز جانفشانی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی موجودگی ڈھکی چھپی نہیں، دہشتگردوں کا بیانیہ اب نہیں بکے گا،کسی کو بھی بلوچستان کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے، بلوچستان کے امن کیخلاف سازش کرنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ دہشتگردوں کو شکست دینگے، قتل ہونے والی خواتین کا قصور صرف پرامن اور باعزت زندگی گزارنا تھا، مقتول خاتون کا گھر سیلاب میں بہہ گیا تھا
، مشکل حالات کے باوجود خاتون نے ہمت نہیں ہاری۔انہوں نے کہا کہ خاتون کو روزگار دیا گیا تاکہ وہ گھر کی کفالت کر سکیں، واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مینا مجید نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بلوچستان میں دہشتگردی نظر نہیں آتی؟ عوام دہشتگردوں کو مسترد کر دیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید نے کہا کہ خواتین کو نشانہ بنا کر دہشت گرد اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے، بلوچ خواتین کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے، بلوچستان کی خواتین کو مارنے سے کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے کہا کہ جن دہشت گردوں نے خواتین کو قتل کیا انہیں سزا ملے گی، پارلیمنٹیرینز کی اس نیوز کانفرنس میں یہ موضوع اہم ہے جو زیرِ بحث ہے، بلوچ، پشتون روایات میں عورت کی عزت بہت بلند ہے۔ہادیہ نواز نے کہا کہ آج گھر میں گھس کرخواتین کو قتل کیا جاتا ہے تو ہم بھی محفوظ نہیں، ریاست کچھ بھی کر لے، اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ریاست نے خواتین کو روزگار اور بچیوں کو تعلیم دی، دہشت گردوں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ہادیہ نواز نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی جا رہی؟ ہمیں ایک پیج پر کھڑے ہو کر آواز اٹھانا ہوگی۔اس موقع پر وزیراعلی کے مشیر شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردوں سے بچے اور خواتین بھی محفوظ نہیں، دہشت گرد اپنے مقاصد کے لیے بچوں اور خواتین کا استعمال کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں