بلوچستان اسمبلی،یوم استحصال کشمیر پر مذمتی قرار داد منظور،کشمیری بہن بھائی جدوجہد میں تنہا نہیں،سرفراز بگٹی

28

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بلوچستان صوبائی اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا قرارداد وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی، صوبائی وزراء میر محمد صادق عمرانی، میر ظہور احمد بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، فیصل خان جمالی اور پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی قرارداد میں 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35(A) کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنے کے اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ آرٹیکل 370 مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت، اپنا آئین، اپنا پرچم اور داخلی خودمختاری فراہم کرتا تھا جبکہ آرٹیکل 35(A) ریاست کے مستقل باشندوں کو سرکاری ملازمت، جائیداد اور سکونت کے خصوصی حقوق دیتا تھا۔ ان دفعات کے خاتمے کے ذریعے بھارت نے کشمیری عوام کی شناخت، آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی ہے ایوان نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرتے ہوئے آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ غیر کشمیری افراد کو زمینوں کی خریداری اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے
قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، محاصروں، ماورائے عدالت گرفتاریوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور میڈیا پر عائد پابندیوں کی بھی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کی جائز امنگوں کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں بلوچستان اسمبلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور قانونی حمایت جاری رکھے گا اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا قرارداد میں 5 اگست کو ہر سال “یومِ استحصالِ کشمیر” کے طور پر منانے کی توثیق کرتے ہوئے اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ملک بھر میں اس دن مختلف تقریبات کے ذریعے عالمی برادری کو بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جائے گا اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا ایوان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مؤثر اور فعال سفارتکاری کے ذریعے مزید بھرپور انداز میں اٹھایا جائے، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قانونی اور سفارتی معاونت کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی بھی تشکیل دی جائے قرارداد کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی عظیم قربانیوں، ثابت قدمی اور جدوجہدِ آزادی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو ظلم و جبر سے جلد نجات عطا فرمائے اور انہیں آزادی، امن اور انصاف کی نعمت سے سرفراز کرے۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنی جانب سے اور اہلِ بلوچستان کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی ایک غیرقانونی، یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی اقدام تھا، جس کا مقصد کشمیری عوام کی شناخت، حقوق اور تاریخی حیثیت کو متاثر کرنا تھا
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اہلِ بلوچستان بھارت کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد منصفانہ اور پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مؤثر نوٹس لے، کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرے اور بھارت پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے دباؤ بڑھائے انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ جس عزم اور مستقل مزاجی سے پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آیا ہے، اسی جذبے کے ساتھ یہ جدوجہد آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کی ہر سطح پر اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان اور اہلِ بلوچستان کشمیری عوام کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑے ہیں اور ان کے جائز حقوق کے حصول تک اپنی بھرپور اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں