کوئٹہ:سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان پر مسلط حکومت صوبے کے مسائل میں روز بروز اضافہ کررہی اور ایسے ایشوز کو اٹھا رہی ہے جو اس سرزمین کے لوگوں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ان مسائل کی اہمیت ہے، حکومت کو اس لیے مسلط کیا گیا ہے کہ وہ صوبے میں قومی حقوق سے لوگوں کو دستبردار کراکے مسائل میں الجھائے رکھے مگر ہم قومی اختیار اور قومی حقوق سے دستبرار نہیں ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو ضلع کچھی کو سبی ڈویڑن میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کیخلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کرائے جانے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر نوابزادہ میر رئیس رئیسانی، میر ہمایوں عزیز کرد، میر سخی بخش رئیسانی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ ضلع کچھی کو سبی ڈویژن میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد اور میر سخی بخش رئیسانی نے بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے
بلوچستان حکومت نے قلات ڈویژن کا تاریخی نام ختم، ضلع کچھی کو نصیرآباد ڈویژن سے الگ کرکے سبی ڈویژن میں شامل کیا ہے، سبی کے ساتھ ہمارا کوئی تنازعہ نہیں سبی ہمارے قومی وطن کا ایک جزو اور اہم حصہ ہے لیکن جعلی حکومت نے مقامی ایشوز میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے ہم کچھی کے ساتھ ساتھ سبی کے لوگوں کے حقوق کا بھی دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل پروفیشنل اداروں میں نوجوانوں کے داخلے، ملازمتوں، کچھی اور بالاناڑی کے پانی کے معاملات ہیں یہ سب پیچیدہ ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اس لیے مسلط کیا گیا ہے کہ وہ صوبے میں قومی حقوق سے لوگوں کو دستبردار کراکے مسائل میں الجھائے رکھے مگر ہم قومی اختیار اور قومی حقوق سے دستبرار نہیں ہوں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ محسن نقوی سیاسی عمل کی پیداوار نہیں وہ ہماری قومی وحدتوں کے حوالے سے حساس نہیں ان کو منصوبہ کے تحت لایا گیا ہے، ہندوستان کی ڈیڑھ ارب کی آبادی میں 28 قومی اکائیاں اور آٹھ یونینز ہیں اس کے باوجود وہ اپنے معاملات کو ٹھیک چلارہے ہیں صرف اتر پردیش کی آباد 24 کروڑ ہے لیکن وہاں اس قسم کے بحران نہیں، پاکستان میں معاشی انتظامی اور سیاسی بحران ریاست کی ہابرڈ نظام کے پیدا کردہ ہیں۔ 29،30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے پشتون جرگہ سے متعلق ایک سوال پر انہوں کہا کہ خدا کرے یہ امن کا جرگہ اور اس سرزمین کے مفاد میں ہو۔
ضلع کچھی کو سبی ڈویڑن میں شامل کرنے کیخلاف آئینی درخواست دائر، بلوچستان کے قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، نوابزادہ لشکری رئیسانی
27













