کوئٹہ:بلوچی اکیڈمی کا انسٹھواں جنرل باڈی اجلاس اتوار کے روز چیئرمین ہیبتان عمر کی صدارت میں بلوچی اکیڈمی کمپلیکس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بلوچی اکیڈمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے علاوہ مالی و انتظامی کاکردگی، کتابوں کی چھپائی اور بلوچی زبان کی ڈیجیٹلائزیشن پراجیکٹ سمیت دیگر امور پر بحث و مباحثہ کیا گیا۔ جنرل باڈی اجلاس میں ممبران نے بلوچی زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے تجاویز پیش کیے گئے۔ جنرل باڈی اجلاس میں گزشتہ سال کے دوران منعقد کیے گئے ادبی سرگرمیوں، تقریبات، نشر و اشاعت اور پراجیکٹس کے بارے میں ممبران کو آگہی دی گئی۔ اس کے علاوہ سالانہ رپورٹ میں بلوچی اکیڈمی کے سالانہ اخراجات کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور منظوری لی گئی۔ جنرل سیکریٹری عرفان جمالدینی نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی نے انسائیکلوپیڈیا پراجیکٹ کے حوالے سے کافی پیش رفت کی ہے اور اس سال کے آخر میں پہلی جلد پر کام مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچی اکیڈمی نے پہلی دفعہ بلوچی او اسی آر (Optical Character Recognition) تیار کیا ہے تاکہ تصاویر یا پی ڈی ایف کو ٹیکسٹ کی صورت میں منتقل کیا جاسکے۔ اس پراجیکٹ کے تحت بلوچی کی نایاب کُتب اور مسّودات کو دوبارہ قابل اشاعت بنانے میں آسانی ہوگی۔ عرفان جمالدینی نے کہا کہ این ایل پی پراجیکٹ کے تحت بلوچی زبان کو سٹینڈرائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے عین مطابق ترقی دی جائے گی۔ سیکریٹری پبلی کیشن ذاکر قادر نے ممبران کو بتایا کہ پچھلے سال اکیڈمی نے بلوچستانیات ریسرچ جرنل سمیت گیارہ کتابیں چھاپی ہیں۔
اس کے علاوہ مزید درجنوں مسّودات پر کام جاری ہے۔ جنرل باڈی کے ممبران نے بلوچستان حکومت کی جانب سے مجوزہ بلوچستان لیٹریری اینڈ لینگوئیجز بل 2025 پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ادبی اداروں کی خودمختاری پر کاری ضرب لگانے کے مترادف قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس بل کو نہ صرف واپس لیا جائے بلکہ بلوچستان کی ادبی اور ثقافتی اداروں کی مالی مدد کو یقینی بنایا جائے تاکہ زبان و ادب کی ترویج کے فروغ میں مدد مل سکے۔ جنرل باڈی اجلاس میں ممبران نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ سرکاری اسکولوں میں بلوچی مضمون پڑھانے کے لیے نصاب بنایا جائے اور بلوچی پڑھانے کے لیے بلوچی ٹیچر تعنیات کیے جائیں۔ اسی طرح کالج لیول میں بلوچستان کے مختلف کالجز کے لیے بلوچی لیکچرار کی خالی اسامیوں کو پبلک سروس کمیشن کے تحت مشتہر کرکے استاد مقرر کیے جائیں۔ ممبران نے حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچی اکیڈمی کی ادبی اور تحقیقی پراجیکٹس خاص کر بلوچی این ایل پی پراجیکٹ کے لیے اضافی فنڈز کا اجراہ کیا جائے کیونکہ موجودہ مالی وسائل میں ایسے پراجیکٹ پر کام کرنا ممکن نہیں ہے۔بلوچی اکیڈمی کے ممبران نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ محکمہ سکول ایجوکیشن بلوچستان کے قومی زبان و ادب کے اداروں کی چھاپی گئی کتابوں کو اسکولوں اور کالجوں کی لائبریریوں کے لیے مختص کرے۔ اسی طرح کلچر ڈیپارٹمنٹ پبلک لائبریریوں کے لیے انہی اداروں سے کتابیں خرید کر لائبریری کو فراہم کرے تاکہ نوجوان ان کتابوں سے استعفادہ کریں۔ اکیڈمی کے ممبران نے مجلس عاملہ کو ہدایت دی کہ وہ بلوچی زبان و ادب کی ترقی کے لیے اپنی جدوجہد میں تیزی لائیں، بچوں کے لیے تعلیمی مواد کی تیاری، غیر ملکی زبانوں کی کلاسیک تخلیقات کو بلوچی زبان میں ترجمہ اور بلوچی کے شاہکار ادبی و تاریخی مواد کو انگریزی یا دیگر زبانوں میں ترجمہ، بلوچی کے لہجوں اور ادبی تاریخ کے بارے میں تحقیق و اشاعت اور بلوچستان کی تاریخ کے بارے میں اقدامات اٹھائے جائیں۔
این ایل پی ڈیجیٹلائزیشن، انسائیکلوپیڈیا، بچوں کے لیے علمی اور ادبی مواد کے پراجیکٹس کو تکمیل تک پہنچایاجائے گا، بلوچی اکیڈمی
24














