سوچ رہا ہوں ایک سیاسی جماعت بناؤں اور پھر خود ہی اس کا بانی چیئرمین بن جاؤں۔ یہ چیئرمینی تاحیات اپنے پاس رکھوں اور پارٹی کا صدر، وائس چیئرمین، سیکرٹری وغیرہ بدلتا رہوں، ایک دو دوستوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا عقل کو ہاتھ مار، کہاں تو اور کہاں سیاسی جماعت۔ انہیں لاکھ بتایا کہ بھائیو اقرارالحسن اپنی جماعت بنا چکا ہے، جواد احمد پہلے ہی اپنی جماعت بنائے ہوئے ہے۔ شاہد خاقان عباسی بھی ایک عدد جماعت کے صدر بن گئے ہیں اور بھی کئی پَرتول رہے ہیں تو میرے میں کیا کمی ہے، بے روزگار پھر رہا ہوں، گھر والے کہتے ہیں، کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا، چلو انہیں تو کوئی کام کرکے دکھاؤں، مگر وہ ظالم حاسدین کی طرح میرا ٹھٹھہ مخول اڑاتے رہے۔ اگلے دن میں کچھ ایسے دوستوں کے پاس چلا گیا، جو بہت انقلابی باتیں کرتے ہیں، منصوبے سنو تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ میں نے سوچا وہ ضرور میرے اس آئیڈیے کی حمایت کریں گے۔ واقعی ایسا ہوا، انہوں نے جونہی یہ بات سنی، پرجوش خیر مقدم کیا۔ کہنے لگے بس تم ہماری بات مان کے چلنا پھر دیکھنا بھارتی اداکار جوزف وجے کی طرح تم بھی ہیرو بن کے ابھروگے، وہ تامل ناڈو کا وزیراعلیٰ بنا ہے تم پنجاب کے بن جاؤ گے۔ ارے واہ دوست ہوں تو ایسے، کم از کم حوصلہ افزائی تو کھل کر کریں۔ میں نے کہا میں حاضر ہوں، جو مشورہ دیں گے اس پر چلوں گا، پھر وہ مختلف مشورے دینے لگےّ ایک نے مشورہ دیا تم آج ہی اعلان کردو کہ سینٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کو الیکشن لڑنے کا چیلنج دیتا ہوں۔ و ہ جیت گئے تو انہیں اپنا قائدتسلیم کرلوں گا۔ میں نے جواباً کہا، ارے بھائی انہیں اب الیکشن لڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ چاروں بیٹے اور وہ خود اقتدار میں ہیں، اس پر ایک نے کہا یہی تو اصل بات ہے، اس سے تو تمہاری راتوں رات شہرت ہو گی۔ میں نے کہا مگر کیسے؟ میں کیسے چیلنج دوں۔ ایک دوست بولا تم نرے گھامڑ ہو۔ تم نے دیکھا نہیں سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کو یہ چیلنج دے کر کتنی شہرت ملی ہے کہ عمران خان کو باہر نکالیں، وہ میرے مقابلے میں الیکشن لڑیں، شکست نہ دوں تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ میں نے کہا ارے بھائی یہ تو اس نے بونگی ماری ہے۔کہاں عمران خان اور کہاں علی موسیٰ گیلانی جس کے بارے میں شاہ محمود قریشی کی بیٹی اور انتخابات میں اس کی حریف شہربانو قریشی نے کہا ہے وہ واضح طو رپر ہار چکے تھے، انہیں فارم 47کے ذریعے جتوایا گیا۔ وہ سب بولے! ہیں تو یہ بات ہے، جب تم سید یوسف رضا گیلانی کو انتخابات میں مقابلے کا چیلنج دو گے تو گیلانی خاندان کے حامی و حواری تمہارے پیچھے پڑ جائیں گے، تمہیں تمہاری اوقات یاد دلائیں گے، کوئی بڑا چمچہ کہے گا، ذات دی کوڑھ کرلی، تے شہتیراں نوں جھپے، کوئی کچھ اور کوئی کچھ، یار تم صرف ایک بیان دینے کی وجہ سے گیلانیوں کے قابل آ جاؤ گے۔ اس کے بعد تو پھر چل سو چل۔
مجھے ان کی باتوں میں کچھ وزن نظر آیا۔ میں نے کہا سوچتا ہوں، پھر ایک بولا عوام کی آج کل دکھتی رگ مہنگا پٹرول ہے تم نے اپنی پارٹی کی طرف سے یہ اعلان کرنا ہے کہ اقتدار میں آکر پٹرول 180روپے لٹر کرو گے اور ہاں جوزف وجے کی طرح دو سو یونٹس بجلی فری کرنے کا اعلان بھی کرنا ہے۔ تیسرا بولا اگر اس کے ساتھ یہ اعلان بھی ہو جائے کہ 25سال کے تمام بے روزگار نوجوانوں کو 20ہزار روپے ماہانہ الاؤنس ملے گا تو سمجھو تم نے میلہ لوٹ لیا۔ میں نے کہا بھائیو یہ کون سا مشکل کام ہے، اعلان ہی تو کرنا ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے کل کس نے دیکھی ہے۔ خیر یہ سب باتیں تو مجھے اچھی لگیں مگر جونہی ایک شرارتی دوست نے کہا تم اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہنا کہ اگر میں وعدے پورے نہ کر سکا تو مجھے لکشمی چوک پر سرعام پھانسی پر لٹکا دینا، تو میں نے کہا کیوں میری زندگی کے پیچھے پڑے ہو، ان میں سے تو کوئی وعدہ بھی پورا نہیں ہونا کیونکہ آئی ایم ایف نے کرنے ہی نہیں دینا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مجھے یعنی اپنے پسندیدہ لیڈر کو پھانسی چڑھا دو، ہاں کوئی چھوٹی موٹی سزا رکھ دو،تاکہ گزارا بھی ہو جائے اور پھانسی بھی ٹل جائے۔ اس پر ایک دوست نے کہا ٹھیک ہے تم اعلان کرنا کہ اگر وعدے پورے نہ کر سکا تو میرا گریبان اور عوام کا ہاتھ ہوگا۔ میں نے کہا بات تو یہ بھی خطرناک ہے، کہنے لگے کوئی خطرناک نہیں بلکہ یہ تو ہمارے لیڈروں کا تکیہ کلام رہا ہے۔ تو صاحبو! سیاسی جماعت بنانے کے حوالے سے ابھی تک مجھے ملا جلا ردعمل ملاہے۔ یہ بھی خوش آئند امر ہے کیونکہ دونوں طرف کی آراء سامنے آنے سے میرے لئے فیصلہ کرنا آسان ہو رہا ہے۔
البتہ کل میں اپنے ایک مرشد سے ملنے جاؤں گا۔ ان کی رائے میرے لئے حتمی ہوگی۔ میں اپنے اس مرشد کا تھوڑا سا تعارف کرا دوں، ان کے پراسرار بزنس کا آج تک مجھے علم نہیں ہو سکا، بس مالدار شخصیت ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں چن چن کے ایسے امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں، ان کی بری شہرت کو وہ ڈرائی کلین کرکے اچھی کرتے ہیں۔ پچھلی بار انہوں نے ایک ایسے شخصی کو بھی جتوا دیا تھا، جس پر سنگین نوعیت کے مقدمات تھے۔ شکر ہے مجھ پر تو کوئی مقدمہ نہیں یعنی میں نیٹ کلین ہوں، اس لئے میری تو وہ کھل کر حمایت کریں گے۔ میں آستانہ، مرشد پر پہنچا تو باہر پولیس اور انتظامیہ کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ خیر اندر جا کر دیکھا تو وہ راجہ اندر بنے بیٹھے تھے۔ میں بھی بیٹھ گیا، پھر ایک ایک ایک کرکے افسر جانے لگے۔ میں بیٹھا رہا، اچانک ان کی نظر مجھ پر پڑی، انہوں نے مسکرا کے خوش آمدید کہا۔ دو گھنٹے بعد جب صرف خاص مرید رہ گئے تو انہوں نے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں اٹھا اور ان کے حلقہء ارادت کے آخری دائرے میں جا بیٹھا۔ انہوں نے حال چال پوچھا اور آنے کا مدعا بھی۔ جب میں نے بتایا کہ آج کل میرے ذہن میں ایک سیاسی جماعت بنانے کا خبط سوار ہے تو ان کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ آئی۔ کہنے لگے تم نے تو بہت بروقت اس ”دھندے“ میں آنے کا سوچا ہے۔ میں نے کہا سرکار دھندہ، کون سا دھندہ؟ فرمایا بھولے نہ بنو۔ یہ جو ٹی وی کے اینکر، گلوکار، کرکٹ کے کھلاڑی اور اسی قبیل کے دوسرے لوگ سیاسی جماعتیں بنا رہے ہیں تو اس کا مقصد کیا ہے۔ مقصد تمہیں میں بتاتا ہوں، بہت جلد اکھاڑ پچھاڑ ہونے والی ہے، بس اٹھائیسویں ترمیم ہونے دو،پھر نئی سیاسی جماعتوں کی لاٹری نکل آئے گی۔ اس لئے اچھا موقع ہے ایک جماعت تم بھی بنا لو، سیاستدانوں، سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناؤ اور اپنے دل کی مراد پاؤ، میں ان کی باتیں سن کر نہال ہو گیا، بڑھ کر ان کا ہاتھ چوما جو شاید دھلا ہوا نہیں تھا۔









