خلیل جبران، عرب دنیا کے ایک نامور اور نظریاتی قسم کے مفکر، ادیب اور دانشور تھے گزری صدی میں جب کمیونزم اور کیپٹلزم کے درمیان فکری و فوجی جنگ جاری تھی توک جبران کا رجحان واضح طور پر کمیونزم کی طرف تھا جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ان کی فکری جدوجہد نے کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا۔عرب دنیا کے علاوہ عالم شرق و غرب میں بھی انہیں پڑھا اور پسند کیا جاتا تھا نوجوان ان کی تحریریں پڑھتے،حوالہ دیتے اور فخر محسوس کرتے تھے انہی کا ایک مشہور قول ہے کہ ”اگر تم وہی کچھ دیکھتے ہو جو آنکھیں دیکھاتی ہیں اور وہی کچھ سنتے ہو جو کان سنواتے ہیں تو پھر تم اندھے ہو اوربہرے ہو“ موجودہ حالات میں یہ قول مکمل طور پر فٹ بیٹھتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے کہ اب یہ جنگ کمبل بن کر اسے چمٹ چکی ہے امریکہ اس سے جان چھڑانا چاہتا ہے لیکن شکست کا داغ لے کر نہیں،بلکہ کچھ ایسا کر کے کہ وہ اپنے عوام کو بتا سکے کہ امریکہ نے اہداف حاصل کر لئے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ٹرمپ ہر لمحہ اہداف بدلتے چلے جا رہے ہیں ابھی تک ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ جنگ شروع کرتے وقت جو کچھ کہا تھا وہ کہیں جنگ کی ہولناکیوں میں گم ہو چکا ہے۔امریکہ اسرائیل کے جنگ جیتنے کے بارے میں تمام تخمینے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ ایران کی صف اول کی قیادت کو شہید کیا جا چکا ہے لیکن قیادت کا ہر سطح پر تسلسل قائم ہے ریاستی و حکومتی ڈھانچہ بظاہر قائم ہے جنگ سے پہلے عوام حکومت کے خلاف مظاہرے کرتے پائے جاتے تھے معاشی اور دیگر کمزوریوں اور خامیوں کے باعث حکومت نامقبول ہو چکی تھی۔ پاسدارانِ انقلاب کی نامقبولیت اور عوام میں ناپسندیدگی عام تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے رجیم چینج کی بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی تھی ابھی تک معاملات میں جو لیت و لعل دیکھنے میں آ رہا ہے تو اس کی وجہ امریکی ماہرین کا یہ تصور کہ عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے اور پھر امریکی مداخلت سے رجیم چینج کر دی جائے گی۔ عملاً ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا ہے، حالانکہ ایرانی معیشت مکمل تباہی کا شکار نظر آ رہی ہے ایک کروڑ ایرانی ریال کا کرنسی نوٹ جاری ہو چکا ہے جس کی مالیت چھ یا سات ڈالر کے برابر ہے۔اطلاعات ہیں کہ دو کروڑ ریال کا نوٹ بھی جاری کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ایران کے عسکری انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ سول انفراسٹرکچر بھی اچھی حالت میں نہیں ہے۔ مالیاتی نظام برباد ہو چکا ہے اشیاء خوردو نوش کی قلت پیدا ہو چکی ہے ایران اپنی بقاء کی جنگ جاری رکھنے کی پالیسی پر گامزن نظر آ رہا ہے ویسے تو ایران نے14 نقاطی نظرثانی شدہ تجاویز کا مسودہ پھر پاکستان کے حوالے کر دیا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کئے جا سکیں امریکہ اس سے پہلے ایرانی تجاویز کو یکسر مسترد کر چکا ہے14نقاطی نظرثانی شدہ تجاویز کا مستقبل بھی زیادہ روشن نظر نہیں آ رہا ہے۔ فریقین ایک دوسرے کو ہلاک و برباد کرنے کی تکرار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر کے عالمی معیشت کو مسائل کا شکار کر دیا ہے امریکہ نے اس پر ڈبل لاک لگا کر ایرانی معیشت کو حتمی طور پر تباہی کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے ایران نے یو اے ای کے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کر کے معاملات کو گھمبیر بنانے کی کوشش کی ہے فریقین مذاکرات کو ناکام بنانے کے لئے تسلسل کے ساتھ کاوشیں کرتے نظر آ رہے ہیں فریقین امن کی باتیں کر رہے ہیں۔ایران واشنگٹن اور تل ابیب کو خطے کے لئے خطرہ قرار دیتا ہے امریکہ کو ناقابل اعتبار قرار دیتا ہے جنگ کی صورت میں خلیج عمان کو امریکیوں کے لئے قبرستان بنانے کا اعلان بھی کر چکا ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ اپنے سکیورٹی ماہرین سے مشورے بھی کر رہے ہیں ظاہر ہے یہ مشورے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لئے نہیں بلکہ ایران کو حتمی شکست سے دوچار کرنے کے لئے ہیں۔ امریکی ملٹری ہارڈ ویئر اور فوجی دستے پہلے ہی ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے مطلوبہ جگہوں تک پہنچائے جا چکے ہیں۔ اب کارگو طیارے گولہ بارود اور دیگر سامان رسد اسرائیلی مقامات تک پہنچا رہے ہیں۔امریکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق جنگ کی صورت میں ممکنہ اہداف بھی طے کر لئے گئے ہیں۔صورتحال تسلی بخش نہیں بلکہ گھمبیر ہوتی نظر آ رہی ہے جنگ کے بادل گہرے ہوتے نظر آنے لگے ہیں امریکہ کی نیو کلیئر سب میرین بھی کہیں ظاہر کر دی گئی ہے وہ متحرک و فعال پوزیشن میں آ گئی ہے اور اسے ممکنہ جنگ کا حصہ بنانے کے لئے میدان جنگ میں لانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔جنگ کے دوران کہیں خبر چھپی اور نشر بھی ہوئی تھی کہ نیو کلیئر بمبار طیارے کو ہینگر سے نکال کر فعال بنانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ایسی خبریں جنگی حکمت عملی اور نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں لیکن اگر ایسا کچھ ہو گیا نیو کلیئر سب میرین کے ذریعے کچھ عملی قدم اٹھا لئے گئے اور نیو کلیئر بمبار چل پڑا تو کیا ہو گا۔تباہی،مکمل تباہی مقدر ہو گی۔حالات کچھ اسی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں فریقین جنگ کے لئے تیار،باتیں امن کی، لیکن تیاریاں جنگ کی ہو چکی ہیں اب صرف ٹریگر دبانے کی ضرورت ہے، اور ہ کسی وقت بھی دب سکتا ہے۔
ایران۔امریکہ جنگ کی خبروں کے پس پردہ اسرائیل لبنان میں اپنی طے شدہ حکمت عملی کے تحت معاملات آگے بڑھا رہا ہے گریٹر اسرائیل کے نقشے کے مطابق ہر دم قدم بقدم آگے بڑھ رہا ہے وہ عربوں کی عسکری قوت پہلے ہی ختم کر چکا ہے حماس کا بھی دھڑن تختہ کیا جا چکا ہے اب ایران کی جنگ کرنے یا مزاحمت کرنے کی صلاحیت کے خاتمے کے منصوبے پر عمل کیا جا رہا ہے۔ عربوں کی مزاحمتی صلاحیت بمقابلہ اسرائیل ختم ہو چکی ہے ایران کو بھی برباد کیا جا چکا ہے لیکن اس کی مزاحمتی اور عسکری صلاحیت کسی نہ کسی حد تک موجود ہے اس نے ڈرونز اور میزائلوں کے استعمال کے ذریعے امریکی جنگی مشن کا نہ صرف مقابلہ کیا ہے بلکہ امریکی عسکری عظمت کے تاثر کو تار تار کر دیا ہے۔ سردست ایران فاتح کے طور پر موجودہے امریکہ کو للکار رہا ہے جرأت و بہادری کا مظاہرہ کر رہا ہے، لیکن امریکی جنگی مشن کو حتمی شکست دینا ایران کے بس میں نہیں۔ دوسرا امریکہ ایران کے ہاتھوں شکست کا تاثر لئے جنگ بندی قبول نہیں کرے گا کیونکہ اس طرح تو اس کی مشرق وسطیٰ میں بچھائی ہوئی بساط ہی الٹ جائے گی۔ امریکہ ایران کو شکست دینے یا کم از کم اتنی شکست کے تاثر کو ختم کرنے کے لئے ایران پر شارٹ ٹرم مگر بھرپور حملے کی تیاری کر چکاہے اور جنگ ہو کر رہے گی۔








