کوئٹہ: ضلع زیارت اور کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں دہشت گردی کے دو مختلف واقعات کے خلاف کوئٹہ میں دو مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری شہداءکے ورثاءکا میتوں کے ہمراہ احتجاج ، ملوث عناصر کے خلاف کاروائی سمیت دیگر مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو زیارت میں دہشت گردی کے واقعہ میں مزید21 پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے کے خلاف کوئٹہ کے سمنگلی روڈ پر واقعہ کوئلہ پھاٹک پر لواحقین نے 17میتوں کے ہمراہ دھرنا دے دیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے ساتھ ہی انہیں واقعہ کے محرکات سے بھی آگاہ کیا جائے زیارت شہداءکے دھرنے کے دوران بعض میتوں کی حالت بہتر نہ ہونے پر انکی تدفین کردی گئی جبکہ جمعرات کی شب 8لاشوں کے ہمراہ دھرنا جاری رہا۔اس دوران دھرنے کے شرکائ کا کہنا تھا کہ ایک مخیر شخص کی جانب سے لاشیں رکھنے کے لیے فریزیر والا کنٹینر بھجیا گیا تاہم اسے پولیس نے بروری تھانے کی حدود میں روک دیا ہے۔دوسری جانب کوئٹہ میں ائیر پورٹ روڈ پر ہنہ اوڑک دہشتگرد حملے کے لواحقین کا دھرنا چھٹے روز بھی جاری رہا۔ دھرنے کے شرکاءنے مطالبہ کیا کہ ہنہ اوڑک کو دہشت گردوں سے پاک کیا جائے، واقعے میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور 11مغویوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔واضح رہے کہ زیارت میں مانگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن پر ڈیوٹی کے لیے جانے والے 30پولیس اہلکاروں اور 5 جولائی کو ہنہ اوڑک میں حملے میں 5 افراد کو شہید جبکہ 8 کو زخمی اور 11 افراد اغوا کرلیا گیا تھا۔
زیارت کوئٹہ دہشتگردی کے واقعات میں شہداءکے ورثاءکا احتجاج جاری
31













