کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما، سابق سینیٹر اور دانشور میر طاہر بزنجو نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی مثریت کم ہونے کے باعث شہری اور انسانی حقوق کی تحریکیں عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ، بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس کی مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن بندوق کے زور پر یا لوگوں کو غیر ملکی ایجنٹ اور غدار قرار دے کر قائم نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ زمینی حقائق کے مطابق بلوچ، پشتون، ہزارہ، پنجابی اور اردو بولنے والے سمیت مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے شہری حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور ان میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔میر طاہر بزنجو نے کہا کہ نیشنل پارٹی کا مقف ہے کہ بلوچستان کو نوآبادیاتی طرز پر چلانے کی پالیسی ترک کی جائےصوبے کے وسائل پر مقامی لوگوں کے حقِ ملکیت کو تسلیم کیا جائے، لاپتہ افراد کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے اور ڈاکٹر مہرنگ بلوچ سمیت زیر حراست افراد کو باعزت رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ہی بلوچستان میں مستقل امن اور سیاسی استحکام کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
بلوچستان میں امن طاقت نہیں، سیاسی انصاف سے ممکن ہے، طاہر بزنجو
1













