ووٹ کی طاقت سے موروثی اور ٹھیکیدار سیاست کا خاتمہ ممکن ہے، سیاسی رہنماء

39

کوئٹہ :بلوچستان کے قبائلی سیاسی و مذہبی رہنماﺅں نے کہا ہے کہ پاکستان کو گریٹ گیم کے ذریعے معرض وجود میں لایا گیا جس کی وجہ سے یہاں پر عوام کو ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کو چننے اور ملک کو پر امن نہیں بننے دیا جس کی وجہ سے لوگوں کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہے ہمیں کتاب کے ذریعے علم دوست اقدامات اٹھانے ہوں گے ہمارے ملک میں پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت دیگر ادارے آزاد نہیں انہیں قبضہ گیروں کے تسلط سے آزاد کرانا ہوگا ان خیالات کا اظہار سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی، سردار احمد خان غیبزئی، مولانا محمد خان شیرانی، سابق نگران وزیر اعلیٰ نواب غوث بخش باروزئی، عبدالمتین اخونذادہ پروفیسر فائزہ میر، ڈاکٹر لعل محمد کاکڑ، جہاں آرا تبسم ، علی احمد بیگ سمیت مقررین نے احمد خان غیبزئی کی کتاب ”واشنگٹن سے بیجنگ“ تک کی تقریب رونمائی کے موقع پر ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر فرید آغا، ہمایوں عزیز کرد، خان واسع، امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مقررین نے کہا کہ سردار احمد خان غیبزئی نے 16 ہزار کلو میٹر کے سفر 600 صفحات پر مشتمل کتاب میں کیا ہے اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ اپنا تنقیدی جائزہ لکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عمل جذبات اور علم کے ذریعے آگے بڑھتا ہے لیکن ہمیں اس کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ ایجادات کے ذریعے ہی قومیں ترقی کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم جس بحران سے گزر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے کیونکہ پاکستان کو ڈیزائن کرکے گریٹ گیم کے تحت معرض وجود میں لایا گیا اسی لئے ہمیں آج تک امن اور ترقی کے وہ زینے چڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہمیں آئے روز مختلف مسائل ، بحرانوں اور دیگر معاملات میں الجھایا جاتا رہا ہے ہمیں اپنے قومی حقوق کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا
جس طرح کراچی میں 13 سال سے زائد عرصے تک لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کرکے ہزاروں لوگوں کو موت کی نیند سلایا گیا ہے ان کا ایک بھی ٹارگٹ کلر گرفتار نہیں ہوا اسی طرح بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کبھی مذہب ، کبھی قومیت کے نام پر کرکے مختلف بحرانوں میں صوبے کو دھکیلے گیا لیکن کوئی معلوم گرفتار نہیں ہوا عالمی سامراجی قوتوں نے گریٹ گیم کے ذریعے ہمارے ملک اور صوبے میں بحرانوں میں دھکیل رکھا ہے گزشتہ 80 سال سے بلوچستان کے مسائل جوں کے توں ہے کیونکہ روز اول سے ہی بلوچستان کے مسائل کی غلط تشریح کی گئی اور اس کی پسماندگی کو سرداروں کے ساتھ جوڑ کر کہا گیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہاں پر ترقی ہو اسی لئے لیویز کو ختم کرکے بحران پیدا کئے گئے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرتے تو یہ حالات نہ ہوتی اس لئے ہمیں اپنے ووٹ کی طاقت سے مورثیت اور ٹھیکیداری سیاست کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ ہمارے ملک میں پارلیمان اور عدلیہ آزاد نہیں اگر آزاد ہوتی تو مجھے ساڑھے 9 سال کیس کا سامنا نہ کرنا پڑتا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسائل کے حل کو یقینی بنائیں لیکن یہاں ٹھیکیداروں کو پارٹیوں کے اوپر مسلط کیا گیا جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی یہ حکومت ہماری خدمت اور حفاظت کیلئے نہیں ہے بلکہ عالمی سامراجی قوتوں کی پیروی کیلئے ہے۔ یہ جمہوری نہیں بلکہ سیکورٹی اسٹیٹ ہے۔ مقررین نے کہا کہ جب تک کردار نہیں بدلیں گے انجام نہیں بدلے گا۔ ہمارا خطہ انگریز سامراج کا بنایا ہے جس کی وجہ سے ہم آج تک آزاد پالیسیوں اور عوام کے حقوق کے حصول کیلئے آزادانہ اقدامات نہیں اٹھاسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں