کرفیو کے باوجود دہشت گردی کا واقعہ سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے، مولانا غفور حیدری

30

اوستا محمد:جمعیت علماءاسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے مستونگ میں دہشت گرد حملے کے دوران سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر گہرے دکھ رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ نہ صرف عدلیہ بلکہ پوری قوم کے لیے انتہائی المناک اور تشویشناک ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی این پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مستونگ کا یہ افسوسناک واقعہ امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود دہشت گردوں کا کارروائی کر کے باحفاظت نکل جانا سیکیورٹی انتظامات کی مو¿ثریت پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کرفیو کے باعث عام شہری اپنے گھروں تک محدود تھے تو پھر دہشت گرد کس طرح آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہوئے ایک سیشن جج کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوگئے اس سانحے کے ہر پہلو کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جا سکے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ سیکیورٹی حکام پر لازم ہے کہ وہ اس افسوسناک واقعے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مو¿ثر اور عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے کیے جانے والے دعووں کی حقیقت ایسے واقعات کے بعد مزید سوالات کو جنم دیتی ہے۔انہوں نے شہید سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باکردار، تعلیم یافتہ، فرض شناس اور قابل احترام شخصیت تھے، جن کی شہادت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے شہید کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں