افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی خطے کیلیے خطرہ ہے، پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کردی

39

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی خطے کی سلامتی کیلیے خطرہ ہے اور پاکستان ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں کمرشل جہاز رانی کو دھمکیوں کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی علاقائی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کا اعادہ کرتے ہیں۔ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے خطے کی صورتحال کو مزید خراب کریں گے۔ پاکستان کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور ایرانی وزیر داخلہ نے اسی مناسبت سے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔

طاہر اندرابی نے بتایا کہ 18 جولائی کو علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاک کویت وزرائے خارجہ کی گفتگو ہوئی۔ گزشتہ روز منیلا میں آسیان اجلاس کی سائیڈ لائنز پر پاک مصر وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی ۔ پاک مصر وزرائے خارجہ نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ منیلا میں پاک اومان وزرائے خارجہ کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے، جہاں ان کی کرغزستان کے صدر سمیت اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں ہوں گی۔

ترجمان کاکہنا تھا کہ نائب وزیراعظم نے منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے 34 ویں اجلاس میں شرکت کی۔ پاکستان 2004 سے آسیان ریجنل فورم کا رکن ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے نائب وزیر اعظم کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم کی بنگلادیش کے وزیر خارجہ و جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا نے زراعت، تجارت و سرمایہ کاری سمیت شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط کیے۔ پاکستان یورپی یونین کی جی ایس پی رپورٹ کا خیرمقدم کرتا ہے۔ یورپی یونین کی رپورٹ مجموعی طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی پیشرفت کا احاطہ نہیں کرتی۔ جی ایس پی پلس درجہ دونوں فریقوں کے لیے باہمی طور پر مفید ہے۔ پاکستان یورپی کمیشن اور دیگر اداروں کے ساتھ مثبت طور پر روابط برقرار رکھے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، یہ رپورٹ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔کوئی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں خاموش نہیں رہ سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے لاحق خطرات پر نپا تلا جواب دیا۔ پاکستان نے اپنی کارروائیوں میں صرف دہشتگردوں کے انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں اصل وجوہات کو سامنے لانے میں ناکام رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن اور امن کو سفارتکاری کے ذریعے موقع دینے کی بات کر رہا ہے۔ پاکستان نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ امن کی طرف واپس آنے کے لیے اسلام آباد ایم او یو ہی بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی آسٹریلین وزیر خارجہ پینی وونگ سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں پاک آسٹریلیا تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور آسٹریلیا نے اعلیٰ سطح کے رابطوں اور باقاعدہ سفارتی روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ آسٹریلین خارجہ پینی وونگ نے کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان اور آسٹریلیا نے دیرپا امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر آواز اٹھاتا رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض قوت کے طور بھارت انسانی حقوق کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔ پاکستان فلسطین کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ فلسطین کی صورتحال کے حوالے سے 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ باہمی رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کی زندہ علامت ہے۔ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دیے جانے سے آگاہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک امریکا تجارتی مذاکرات جاری ہیں اور ٹیرف کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ ٹیرف اور چائلڈ لیبر کے معاملے پر امریکا کو اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کارگل جنگ کا معاملہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ مرحوم سرتاج عزیز کی کارگل کے حوالے سے کتاب بہترین ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں خواتین اور بچوں کی صورتحال کا احساس ہے۔ قانونی سفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث کسی کو ڈی پورٹ کرنا مروجہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔ اگر کسی پاکستانی شہری کو بغیر دستاویزات کے افغانستان میں رہائشی حق نہیں تو کسی افغانی کو بھی پاکستان میں بغیر دستاویزات رہنے کا حق نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے کئی واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے۔ اگر کسی ملک کے شہری دوسرے ملک میں دہشت گرد ملوث پائے جائیں تو انہیں نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم پرامن افغان شہریوں کے خلاف نفرت نہیں پنپنے دیں گے۔ پاکستانی کھلے دل کے مالک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں