لسبیلہ کی تاریخی حیثیت پر بحث مستند حقائق پر ہونی چاہیے،جام کمال

57

اسلام آباد : وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ لسبیلہ کی تاریخی حیثیت سے متعلق کسی بھی بحث کی بنیاد موجودہ انتظامی حدود کے بجائے مستند تاریخ، سرکاری ریکارڈ اور حقائق پر ہونی چاہیے۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ لسبیلہ کی اپنی ایک منفرد اور اہم سیاسی و انتظامی تاریخ ہے۔ لسبیلہ اٹھارہویں صدی میں ایک علیحدہ حکمران ریاست کے طور پر سامنے آیا اور قیامِ پاکستان کے بعد انتظامی ڈھانچے میں انضمام تک جام خاندان کی حکمرانی میں رہا۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صوبہ بلوچستان اپنی آج کی آئینی شکل میں پوری تاریخ کے دوران موجود نہیں تھا۔ موجودہ بلوچستان کا علاقہ تاریخی طور پر متعدد الگ سیاسی اور انتظامی اکائیوں پر مشتمل تھا، جن میں خانیتِ قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران کی نوابی ریاستیں، جبکہ براہِ راست برطانوی انتظام کے تحت آنے والے علاقے شامل تھے، جنہیں برطانوی بلوچستان کہا جاتا تھا۔لسبیلہ اور قلات کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ مختلف ادوار میں جامِ لسبیلہ اور خانِ قلات کے درمیان سیاسی اور علاقائی تعلقات تبدیل ہوتے رہے۔ تاہم لسبیلہ نے قلات کے ایک عام ضلع کے بجائے ایک علیحدہ نوابی ریاست کے طور پر ترقی کی اور اپنا انتظامی تشخص برقرار رکھا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں قلات، لسبیلہ، مکران اور خاران کو برطانوی تحفظ میں الگ الگ نوابی ریاستوں کی حیثیت حاصل تھی، جبکہ خطے کے دیگر علاقے براہِ راست برطانوی انتظام میں تھے۔ تاریخی نقشے پر گفتگو کے دوران اس امتیاز کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق برطانیہ نے پورے موجودہ بلوچستان پر ایک ہی وقت میں قبضہ نہیں کیا تھا، بلکہ مختلف معاہدوں، لیز، فوجی انتظامات اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے اس خطے میں اپنا کنٹرول بتدریج قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ 1879ءکے معاہدہ گندمک کے بعد کوئٹہ، پشین اور سبی سمیت متعدد علاقے برطانوی کنٹرول میں آئے، جبکہ بولان پاس، نوشکی اور نصیرآباد جیسے علاقوں کے حوالے سے الگ الگ معاہدوں اور انتظامات کے تحت پیش رفت ہوئی۔جام کمال خان نے کہا کہ برطانیہ نے اس پورے خطے کو ایک یکساں انتظامی اکائی کے طور پر چلانے کے بجائے مختلف زمروں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہ خطہ مجموعی طور پر قلات اور لسبیلہ کی مقامی ریاستوں، برطانوی بلوچستان اور ایجنسی علاقوں پر مشتمل تھا۔ بعض ایجنسی علاقے قلات سے لیز پر حاصل کیے گئے تھے، جبکہ دیگر علاقوں کا انتظام قبائلی حکام کے ساتھ الگ بندوبست کے تحت چلایا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج کے صوبائی نقشے کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا تاریخی طور پر درست نہیں کہ ایک یا دو سو سال قبل بھی یہی انتظامی حدود موجود تھیں۔قیامِ پاکستان کے بعد ہونے والی انتظامی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق نوابی ریاستیں فوری طور پر موجودہ طرز کے صوبائی اضلاع میں تبدیل نہیں ہوئی تھیں۔ لسبیلہ نے پاکستان سے الحاق کیا اور کچھ عرصے تک اپنی علیحدہ شناخت برقرار رکھی۔انہوں نے بتایا کہ 1952ءسے 1955ءتک لسبیلہ دیگر سابق نوابی ریاستوں کے ساتھ بلوچستان اسٹیٹس یونین کا حصہ رہا، جبکہ اس دوران اس کے داخلی انتظامی تشخص کے بعض عناصر بھی برقرار رہے۔جام کمال خان نے کہا کہ 1955ءمیں ون یونٹ اسکیم کے تحت مغربی پاکستان کے صوبوں اور سابق انتظامی ڈھانچوں کی تنظیمِ نو کی گئی، جس کے بعد لسبیلہ کو قلات ڈویژن کا حصہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر 1960ئ میں لسبیلہ کو قلات ڈویڑن سے الگ کرکے کراچی کے ساتھ ملا کر کراچی،بیلہ ڈویژن تشکیل دیا گیا،یہ ایک اہم تاریخی حقیقت ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ لسبیلہ اور کراچی کے درمیان انتظامی تعلق کوئی حالیہ تصور نہیں بلکہ 1960ءکی دہائی میں باضابطہ طور پر موجود تھا،بعدازاں 1972ءمیں لسبیلہ کو دوبارہ قلات ڈویژن میں منتقل کردیا گیا۔اورماڑہ کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس علاقے کی تاریخی حیثیت بھی پیچیدہ رہی ہے،قدیم لسبیلہ گزٹیئر میں مختلف تاریخی روایات درج ہیں جن میں مختلف ادوار کے دوران اورماڑہ کے قلات، مکران یا لسبیلہ سے تعلق، محصولات اور سیاسی دعوو¿ں میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید تاریخی حوالوں میں بھی اورماڑہ کی لسبیلہ کے ساتھ سابقہ وابستگی کا ذکر ملتا ہے، جسے بعد کی انتظامی تبدیلیوں کے نتیجے میں مکران کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کیا گیا، اس لیے بعد میں قائم ہونے والی ضلعی حدود کو گزشتہ صدیوں کے سیاسی جغرافیے پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے کی وسیع تر تاریخ کو سمجھنے کے لیے خانیتِ قلات، نوابی ریاست لسبیلہ، نوابی ریاست مکران، نوابی ریاست خاران اور برطانوی بلوچستان یا برطانوی انتظام کے تحت علاقوں کو الگ الگ سیاسی اکائیوں کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام علاقے ایک ہی سیاسی وحدت نہیں تھے اور نہ ہی برطانیہ یا ایک دوسرے کے ساتھ ان کے آئینی اور سیاسی تعلقات یکساں نوعیت کے تھے۔ برطانوی ریکارڈ میں بھی قلات، سبی اور برطانوی بلوچستان سے متعلق علاقائی، ریلوے، سرحدی اور انتظامی معاملات کے الگ الگ معاہدے اور دستاویزات موجود ہیں۔جام کمال خان نے کہا کہ موجودہ صوبہ بلوچستان تاریخی طور پر مختلف ریاستوں، علاقوں اور انتظامی بندوبست کے انضمام سے وجود میں آیا، بالخصوص ون یونٹ کے خاتمے اور 1970ءمیں صوبائی نظام کی بحالی نے اس کی موجودہ تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بحث تاریخ اور کسی خطے کی حقیقی تاریخی اہمیت کے متعلق ہو تو اسے صرف موجودہ سرحدوں اور انتظامی حدود کی بنیاد پر نہیں بلکہ مستند تاریخی شواہد، سرکاری ریکارڈ اور حقائق کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں