کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کسی بھی ملک کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہے، دفتر خارجہ

34

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، پاکستان کسی بھی ملک کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر سخت تشویش ہے۔ پاکستان مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔ تنازع کو مذاکرات کی میز پر ہی حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ کشیدگی ختم ہو اور تکنیکی مذاکرات شروع ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد نارمل ہو جائے گی۔ پاکستان موجودہ علاقائی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد جاری رہنا چاہیے۔ پاکستان آبنائے ہرمز سے تجارت، پیٹرولیم مصنوعات کی باآسانی فراہمی پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان فریقین پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے زور دیتا ہے، کیونکہ تنازع کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ تمام فریق کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔

ترجمان نے کہا کہ امن اور باہمی احترام کے حصول کے لیے اسلام آباد ایم او یو جیسی دستاویز موجود ہے۔ توقع ہے فریقین ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی سے تنازع کا حل تلاش کریں گے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال کا پوری دنیا پر اثر پڑ رہا ہے۔ پاکستان اہم ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے ۔ 10 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر کے ساتھ اہم گفتگو ہوئی، وزیراعظم نے ایرانی صدر کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ضبط و تحمل پر زور دیا۔ ایرانی صدر نے بھی پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں