اسلام آباد:وزارتِ ریلوے نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت دو نئے اہم منصوبے شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے، جن کے لیے وفاقی بجٹ میں فنڈز بھی مختص کر دیے گئے ہیں۔ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں وزارتِ ریلوے کی جانب سے انہی دو منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ کوئی نیا منصوبہ ترقیاتی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔دستاویزات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی مالی معاونت سے ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن کے لیے تیاری اور آمادگی سے متعلق معاونتی منصوبے کے لیے وفاقی بجٹ میں 1 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 2 ارب 94 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جبکہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 6 جون کو اس منصوبے کی منظوری دے دی تھی۔دوسرے منصوبے کے تحت روہڑی، سبی، کوئٹہ، تفتان سیکشن پر ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن کے لیے رواں مالی سال میں 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس بڑے منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 278 ارب 61 کروڑ روپے ہے، تاہم اس منصوبے کی سی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری ابھی باقی ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں منصوبے سی پیک کے تحت پاکستان کے ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری، ٹرین آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ملکی و علاقائی تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
سی پیک کے تحت دو نئے اہم منصوبے شروع کرنے کی منظوریِ ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن منصوبے کیلئے 1 ارب 40 کروڑ ،روہڑی، سبی، کوئٹہ، تفتان سیکشن پراپ گریڈیشن کیلئے میں 25 کروڑ مختص
1













