عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لئے بغیر انتظامی تبدیلیاں کی گئیں ہے، قلات ڈویژن کو ختم کرنے کا معاملہ؛نواب اسلم رئیسانی نے آئینی درخواست دائرکردی

33

کوئٹہ:سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی چیف آف سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں سے اراکین اسمبلی متاثر ہونے کے باوجود ان کی خاموشی باعث تشویش ہے بلوچستان کا مسئلہ انتظامی وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے نہیں بلکہ سیاسی انداز میں حل ہوگا اور نئے عمرانی معاہدے سے ہی مسائل کا حل ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بلوچستان ہائیکورٹ میں قلات کی ڈویژنل حیثیت ختم کرنے اور ضلع مستونگ کو کوئٹہ میں شامل کرنے کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی، سینئر وکیل ریاض احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔ نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قلات کی ڈویژنل حیثیت ختم کرنے اور ضلع مستونگ کو کوئٹہ میں شامل کرنے کے خلاف عدالت عالیہ میں دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈویژن کے خاتمے سے قلات کی تاریخی حیثیت ختم ہو گئی، عوام اور ان کے نمائندوں کو بھی نظر انداز کیا گیاہے۔ اس فیصلے سے ممبران پارلیمان بھی متاثر ہوئے ہیں لیکن ان کی خاموش باعث تشویش ہے
انہوں نے کہا کہ درخواست میں صوبائی حکومت کو بھی فریق بنایا گیا ہے کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ انتظامی ہے جو وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے نہیں بلکہ سیاسی انداز میں حل ہوگا۔اسی طرح سراوان جھالاوان کو سنے بغیر نوٹیفکیشن جاری کیا گیاہے یہ ہمارے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے حالات کی بہتری کے لئے نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے حکومت کوئی بھی الاٹمنٹ یا اراضی کی خریداری میں قبائل کو نظر انداز نہیں کر سکتی انہیں قبائل اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لینا ہوتا ہے لیکن حکومتی اقدامات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت نے اپنا فیصلہ ہم سب پر مسلط کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ژوب سے گوادر تک ہمیں اور عوامی نمائندوں کو سنے بغیر نوٹیفکیشن جاری کیا جسے اپنے حقوق کے خلاف سمجھتے ہیں
موجودہ حکومت اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہے لیکن فیصلے ڈکٹیٹر شپ کی طرز کے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے حکمران 1948ء میں خان آف قلات اور محمدعلی جناح کے درمیان ہونے والے معاہدے کو نظر انداز کررہے ہیں گزشتہ 25 سال سے میں اس حوالے سے میڈیا میں یہ چیزیں اجاگر کررہا ہوں لیکن اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی کیونکہ ریاست قلات نے کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ ہم نے رضاکارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا جس نے ہمیں آئینی حقوق دیئے ہیں ان کے تحت فارم 45,47 اور 48سمیت 100 کی بات سننے کی بجائے 1973ء کے آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہا کہ میں نے گوادر کو سرمائی دارالحکومت کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا میرے بعد آنے والوں نے اس کو ختم کردیا اور میرے دور میں کوئی انتظامی تبدیلی نہیں کی گئی کھڈ کوچہ میں کرفیو کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جائے اس سے لوگوں کی مشکلات بڑھیں گی انہوں نے کہا کہ ہمارا مسئلہ سیاسی ہے انتظامی نہیں اس لئے اس کو سیاسی طور پر حل کیا جائے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ میری نظر میں مسئلہ کشمیر اور بیت المقدس سے بھی اہم ہے اس کو حل ہونا چاہئے اور بی وائی سی کی قیادت سمیت دیگر گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2008ء سے 2013ء تک اپنے دور حکومت میں لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے حکام بالا اور فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور دیگر کے ساتھ جو کوششیں کی وہ ریکارڈ کا حصہ ہے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے حامی نہیں بلکہ نظام کی بہتری کے حامی ہوں کیونکہ بلوچستان کثیر القومی ریاست ہے جس میں مختلف قومیں بستی ہیں جن کی اپنی شناخت، زبان، ثقافت، رہن سہن اور سرزمین ہے۔ انہیں وزیر اعلیٰ بنانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی وزیراعلیٰ بننے کو تیار نہیں ہے۔ اس موقع پر سینئر وکیل ریاض احمد ایڈووکیٹ نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 1973 کا آئین ہے اور یہ آئین عوام کو بنیادی حقوق دیتا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور حکومت نے اس معاملے پر مستونگ اور قلات کے عوام کو نہیں سناکیونکہ عوام ان علاقوں میں صدیوں سے آباد ہیں اور یہ فیصلہ ان کے حقوق کی حق تلفی کے مترادف ہے عوام سمیت کسی کو سنے بغیر تقسیم کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیاجس سے لوگوں کے حقوق متاثر ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں