مستونگ حملہ نظامِ انصاف پر حملہ ہے، بلوچستان بارکونسل کاعدالتی بائیکاٹ اور یومِ سوگ کا اعلان

14

کوئٹہ: بلوچستان بار کونسل نے ضلع مستونگ میں دہشت گرد حملے کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری گن مین کی شہادت جبکہ ایک ایڈیشنل سیشن جج کے زخمی ہونے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے نظامِ انصاف، عدلیہ اور قانون کی بالادستی پر حملہ قرار دیا ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف جمعہ، 24 جولائی کو بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ اور یومِ سوگ منانے کا اعلان بھی کیا ہے۔بلوچستان بار کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف، عدلیہ اور قانون کی بالادستی پر حملہ ہے۔
بیان میں شہید سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا گیا، جبکہ زخمی ایڈیشنل سیشن جج کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔بار کونسل نے واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 24 جولائی کو بلوچستان بھر میں وکلا عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور یومِ سوگ منایا جائے گا، جس کے دوران وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔پریس ریلیز میں حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ جج صاحبان، وکلا، عدالتی عملے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عدلیہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں